فلسطین اسرائیل تنازع

انسانی امداد لے جانے والے ٹرک رفح سرحدی گذرگاہ پر داخلے کے منتظر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل، مصر اور اقوامِ متحدہ کے درمیان جلد ہی جنگ بندی معاہدہ ہو جائے گا۔ ان اطلاعات کے بعد انسانی امداد لے جانے والے 100 سے زیادہ ٹرک پیر کے روز رفح سرحدی گذرگاہ سے غزہ میں داخلے کے منتظر ہیں۔

تاہم حماس کے رہنما عزت الرشق نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ مصر کے ساتھ رفح سرحدی گذرگاہ کھولنے یا عارضی جنگ بندی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

جبکہ ہمسایہ ملک مصر میں سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اس طرح کے معاہدے پر عمل درآمد ہونا تھا تو اس کے آدھے گھنٹے بعد اسرائیل نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں جنوبی غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے تردید کی گئی۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "غیر ملکیوں کو نکالنے کے بدلے غزہ میں فی الحال کوئی جنگ بندی اور انسانی امداد نہیں کی گئی ہے۔"

غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی گذرگاہ علاقے میں انسانی امداد پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور محصور شہر سے باہر جانے کے لیے بنیادی راستے کا کام کرتی ہے۔

غزہ کی جانب سے مصر میں داخل ہونے والی رفح گذرگاہ، غزہ سے باہر جانے کے لیے استعمال ہونے والی مرکزی گزر گاہ ہے جو اسرائیل کے زیر کنڑول نہیں ہے۔ وہاں پر اسرائیلی بمباری امدادی کارروائیوں کو متأثر کر رہی ہے۔

غزہ تک امداد کی محفوظ ترسیل اور کچھ غیر ملکیوں کو مصر میں رفح گذرگاہ کے راستے غزہ سے باہر نکالنے کے معاہدے تک پہنچنے میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے متعدد ممالک کی طرف سے بھیجی گئی امداد مصر کے جزیرہ نما سیناء میں جمع ہوتی جا رہی ہے۔ تاحال امدادی ٹرکوں کو گذرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔

15 اکتوبر 2023 کو مصر کے جزیرہ نما سینائی کے العریش شہر میں مصری این جی اوز کے ٹرکوں کا ایک منظر جو فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے ہیں۔ یہ غزہ میں داخلے کے لیے رفح سرحدی گذرگاہ پر ایک معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
15 اکتوبر 2023 کو مصر کے جزیرہ نما سینائی کے العریش شہر میں مصری این جی اوز کے ٹرکوں کا ایک منظر جو فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے ہیں۔ یہ غزہ میں داخلے کے لیے رفح سرحدی گذرگاہ پر ایک معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

العربیہ کے مطابق سینکڑوں خاندان غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے سے بچنے کی امید میں رفح سرحدی گذرگاہ پر انتظار کر رہے ہیں۔

العربیہ پر نشر ہونے والی لائیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ہجوم گذرگاہ پر جمع ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف امداد لے جانے والے ٹرک قطار میں کھڑے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے قونصلر امور کے بیورو نے کہا کہ رفح گذرگاہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے دوبارہ کھول دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو اس راستے سے گذرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

محکمے نے ایک بیان میں کہا، "ہم توقع کرتے ہیں کہ رفح گذرگاہ پر صورتحال غیر متوقع اور ناقابلِ پیش گوئی رہے گی اور یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو گذرگاہ سے گذرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔"

العربیہ نے اطلاع دی ہے کہ ایک نامعلوم ذریعے نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ رفح گذرگاہ پیر کو چند گھنٹوں کے لیے دوبارہ کھل جائے گی اور پھر بغیر کسی مخصوص ٹائم فریم کے شام کو دوبارہ بند ہو جائے گی۔

غزہ میں طبی ماہرین نے اتوار کے روز ایک مایوس کن انتباہ جاری کیا تھا کہ زخمیوں سے بھرے اسپتالوں میں ایندھن اور بنیادی سامان کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں شہری ہلاک ہوسکتے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے مکمل محاصرے کا حکم دینے کے بعد ساحلی علاقے میں فلسطینی بھی متوقع اسرائیلی زمینی حملے سے قبل خوراک، پانی اور حفاظت کی تلاش میں جدوجہد کر رہے تھے۔

فلسطینی 15 اکتوبر 2023 کو وسطی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے مکان کا ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ ملبے تلے کسی جانی نقصان کا پتا چل سکے۔ (رائٹرز)
فلسطینی 15 اکتوبر 2023 کو وسطی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے مکان کا ملبہ ہٹا رہے ہیں تاکہ ملبے تلے کسی جانی نقصان کا پتا چل سکے۔ (رائٹرز)

پیر کے روز بھی اسرائیل نے اس پٹی پر بمباری جاری رکھی جو تقریباً 2.3 ملین افراد کا مسکن ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی بمباری میں اب تک کم از کم 2,750 افراد ہلاک اور 9,600 زخمی ہوئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے رپورٹ کیا کہ غزہ کے سیکڑوں باشندے پناہ تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ اس بے یقینی کا شکار تھے کہ آیا شہر کے شمالی حصوں میں اپنے گھر چھوڑ دیں اور اسرائیل کے انخلاء کے حکم پر عمل کریں یا اپنی جان کو خطرے میں ڈالیں کیونکہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ان گاڑیوں اور ٹرکوں پر فضائی حملے کیے جو پناہ گزینوں کو جنوب کی طرف لے جا رہے تھے۔

اے پی نے کہا کہ غزہ میں اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہوں میں بھی پانی ختم ہو گیا ہے اور علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کے پریشان حال ڈاکٹروں کو ان مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ جب جنریٹرز کا ایندھن ختم ہو جائے گا تو وہ مر جائیں گے۔

فلسطینی غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مکان کے ملبے تلے تلاش کا کام کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
فلسطینی غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مکان کے ملبے تلے تلاش کا کام کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں