امریکہ کی 'جیوش کمیونٹی ' کا فلسطینیوں کی آزادی کے لیےمجسمہ آزادی کی گراؤنڈ پرمظاہرہ
فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگ بند کرو، فلسطینیوں کو آزادی دو کے نعرے
غزہ پر اسرائیل کی ایک ماہ سے جاری بد ترین بمباری اور فضائی حملوں کے علاوہ زمینی اور بحری فوج کے حملوں کے بعد نیو یارک میں جنگ بندی کے حق میں عوامی احتجاج میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
پیر کے روز امریکی یہودیوں نے بھی امریکہ کے مشہور زمانہ مجسمہ آزادی کی گراونڈ پر جمع ہو کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی بمباری کی مذمت کی ہے۔
'جیوش کمیونٹی' امریکہ کے اس احتجاجی مظاہرے کے شرکا کا نعرے تھے' ساری دنیا دیکھ رہی ہے' فلسطینیوں کو آزادی دو۔'
احتجاجی مظاہرے سے پہلے یہودیی کمیونٹی کے لوگوں نے مجسمہ آزادی کے گرد وپیش پر قبضہ کر لیا اور اسرائیل کی طرف سے غزہ پر بمباری کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری جنگ بندی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا 'اب جنگ بندی کردو اور ہمارے نام پر بمباری نہ کرو۔' واضح رہے مجسمہ آزادی نیویارک ہاربر کے داخلی راستے کے قریب ہے۔
پچھلے کئی دنوں سے امریکہ اور یورپی ملکوں میں فلسطینیوں کے حق میں اسرائیلی بمباری کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے لیکن پیر کے روز ہونےوالا یہ جیوش کمیونٹی کا مظاہرہ سب سے منفرد نوعیت کا رہا کہ خود امریکی یہودی بھی پکار اٹھے ہیں کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ اور آزادی فلسطینیوں کا حق ہے۔
واضح رہے امریکی جوبائیڈن انتطامیہ کی ان دنوں یہ پریشانی چل رہی ہے کہ اس کے اپنے ملک میں یہود مخالف اور اسلام مخالف سرگرمیوں میں ایک ماہ سے شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔