جوبائیڈن کی اسرائیل پالیسی پر تنقید۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس کو'زباں بندی' کی سزاکاخدشہ
یہ بری مثال ہو گی۔ طلائب کا اپنے موقف کا بھر پو دفاع ۔ سنسر لگانا آئین کی توہین ہے: ڈیموکریٹ رکن کانگریس
امریکہ جہاں ایک جانب واشنگٹن اور نیویارک سمیت غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کی اندھی بمباری کے خلاف اور جنگ بندی کے حق میں ہزاروں مظاہرین جمع ہو رہے ہیں وہیں امریکی کانگریس میں ایک خاتون رکن کانگریس کو صدر جوبائیڈن کی اسرائیل نواز پالیسی پر تنقید کے 'جرم ' محدود حد تک زباں بندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
راشدہ طالب مشی گن سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیں۔ انہوں نے چند دن قبل صدر جوبائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی عوام کی سوچ سے ہٹی ہوئی اسرائیل پالیسی پر خبردار کیا تھا اور کہا تھا اگر انہوں نے اس پالیسی کو جاری رکھا تو عوام 2024 میں یہ سب کچھ بھولیں گے نہیں۔'
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صورت میں جوبائیڈن اپنے ووٹوں میں انہیں بھی شمار نہ کریں۔' تب سے اس خاتون رکن کانگریس کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ لیکن منگل کے روز ان کے خلاف کانگریس میں ایک باضابطہ بات ہوئی کہ ان کو ووٹنگ کے ذریعے 'سنسر ' کی پابندی سے نوازا جائے۔
اگر اس سلسلے میں پیشرفت ہوتی ہے تو راشیدہ طالب دوسری رکن کانگریس ہوں گی جنہیں اسرائیل کے بارے میں امریکی انتظامیہ سے ہٹ کر خیالات رکھنے پر اس طرح کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل الہان عمر کو بھی اسی طرح کی سزا مل چکی ہے۔ الہان عمر نے بھی فلسطینیوں کے حق میں بات کی تھی۔
واضح رہے کسی رکن کو اس سے اگلے درجے کیا اس سے سخت سزا جس کا سامنا ہو سکتا ہے وہ اس کی کانگریس سے برطرفی ہو سکتی ہے۔ لیکن طالب کو اس سے ایک درجہ کم سزا کا سامنا ہو گا۔ راشیدہ طالب تین بار رکن کانگریس منتخب ہو چکی ہیں۔
ان کے خلاف منگل کے روز امریکی ایوان نمائندگان میں سنسر کی قرارداد پیش کی گئی اور اس پر بحث شروع ہوئی۔ بحث کافی جذباتی انداز سے جاری رہی۔
ریپبلکن رکن رچ مکورمک نے کہا'راشیدہ نے یہود مخالف بیانیے کو قوت دی ہے۔ انہوں نے ہمارے عظیم اتحادی اسرائیل کے بارے میں سات اکتوبر کے حملوں کے حوالے سے غلط بات کی ہے'
جبکہ راشیدہ طالب نے اپنی حمایت میں کئی ڈیموکریٹس کے ساتھ اپنے موقف کا دفاع کیا۔ راشیدہ کا کہنا تھا ' میں چپ رہوں گی نہ کسی کو اپنا موقف توڑنے مروڑنے کی اجازت دوں گی۔ اسرائیل کے بارے میں میری تنقید کا رخ ہمیشہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے رہا ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت اور عوام کو الگ الگ دیکھا جائے۔'
راشیدہ نے مزید کہا ' یہ تصور کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کرنا سام دشمنی ہے یہ تصور بڑی خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے، اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کے بارے میں مختلف خیالات رکھنے والوں کو خاموش کرانے کی راہ نکال لی جائے گی۔'
اہم بات یہ ہے کہ پچھلے تقریباً تمام ڈیموکریٹ رکن ابتدا میں راشیدہ طالب کے ساتھ کھڑے تھے، جس کے نتیجے میں راشیدہ کے خلاف سنسر لگانے کی قرارداد ناکام ہوگئی۔ لیکن بعد ازاں ان کے رفقاء میں فرق آ گیا خصوصاً ان کی یہودی رفقاء میں۔اب تک 20 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان ریپبلکنز کی حمایت میں جا چکے ہیں۔
براڈ شنیڈیر واحد ڈیمو کریٹ رکن ہیں جہنوں نے منگل کے روز ریپبلکن کے ساتھ ووٹ دیا۔ تاکہ سنسر کی قرارداد آگے بڑھ سکے۔ ان کا کہنا تھا یہ ضروری ہے کہ 'دریا سے سمندر تک ' کے نعرے پر بحث کیا جائے۔'
اس یہودی رکن کا کہنا تھا ' یہ نعرہ اسرائیل اور بڑی تعداد میں یہودیوں کی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ تاہم راشیدہ کو یہ حق ہے وہ جو چاہے کہے۔ البتہ اسے اس کا جواب دینا ہو گا۔'
بہت سے ڈیمو کریٹس اور چند ریپبلکن ارکان نے راشیدہ طالب کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا اگر سنسر لگایا گیا تو اس سے آزادی اظہار کا حق متاثر ہو گا۔
ڈیمو کریٹ رکن جیمی راسکین نے راشیدہ طالب کے خلاف قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ۔ یہ ہمارے آئین کی توہین کرنے کے مترادف ہے ، یہ نظم وضبط کے بھی سستے معنی ہیں۔ یہ باڈی درحقیقت ان لوگوں کے لیے سزا تجویز کرتی ہے جو رشوت پسند کرتے ہیں، دھوکہ دہی کرتے ہیں یا پرتشدد حملے میں ملوث ہوتے ہیں۔
اگر راشیدہ طالب کے خلاف سنسر کی قرار داد منظور ہو جاتی ہے تو وہ مجموعی طور پر 26ویں اور دوسری مسلم رکن کانگریس ہوں گی جن کی زبان بندی کا یہ فیصلہ ہو گا۔