کاروباری دنیا کی سب سے بڑی نمائش سعودی عرب میں ہو گی

سعودی دارالحکومت ریاض ایکسپو 2030 کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی دارالحکومت ریاض نے چھ ماہ تک مسلسل جاری رہنے والی عالمی تجارتی نمائش ’ورلڈ ایکسپو 2030‘کے انعقاد کے حوالے سے کی جانے والی بولی واضح اکثریت سے جیت لی ہے۔ یہ ہمہ گیر نوعیت کی عالمگیر نمائش یکم اکتوبر 2030 سے شروع ہو کر 31 مارچ 2031 کے دوران چھ ماہ تک جاری رہے گی۔

گذشتہ روز پیرس میں ہونے والے چنائو میں سعودی دارالخلافہ ریاض، دوسرے مد مقابل بشمول اٹلی کے دارالحکومت روم اور جنوبی کوریا کے شہر بوسان کو باآسانی شکست دے کر ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کا حقدار ٹھہرا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بیورو انٹرنیشنل ڈیس ایکسپوزیشنز (BIE) کی جنرل اسمبلی میں رکن ممالک کی ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے مرحلے میں ریاض 119 ووٹ حاصل کرکے نمائش منعقد کرنے کا حقدار ٹھہرا جبکہ جنوبی کوریا کےشہر بوسان صرف 29 اور اطالوی دارالحکومت روم 17 ووٹ حاصل کرسکا۔

واضح رہے کہ BIE کا پیرس میں ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ ادارہ تین ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی تمام بین الاقوامی نمائشوں کی نگرانی اور ان کو منظم کرنے کا ذمہ دار ایک بین الحکومتی ادارہ ہے۔ 1928 میں 31 ممالک کی طرف سے قائم کئے جانے والے اس ادارے کے ممبران ایکسپو کی کامیابی سے انعقاد کے باعث 182 تک پہنچ گئے ہیں۔ BIE ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ممبر ممالک اس کے تمام فیصلوں میں مساویانہ بنیادوں پر حصہ لیتے ہیں اور اس کے مقاصد میں ایکسپو کے معیار کو مسلسل بہتر بنانااولین ترجیحات میں شامل ہے۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مملکت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے ریاض کی کامیاب بولی پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مبارکباد دی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے چنائو میں ریاض کی بولی کی حمایت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپو 2030 کی میزبانی دراصل مملکت پر دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس ہے۔ شہزادہ فیصل نے کہا کہ بالخصوص سعودی ولی عہد نے ریاض کو 2030 ورلڈ ایکسپو کے میزبان شہر کے طور پر انتخاب کے لیے نمایاں کوششیں کیں۔

ایکسپو کی میزبانی جیتنا سعودی عرب کے لیے بہت اہمیت کی حامل پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ کامیابی مملکت کو عالمی معاشی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری مواقع کی ترویج کے حوالے سے بھی ایک نادر موقع ہو گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ملک دنیا بھر میں کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک کے انعقاد کے لیے واحد سنجیدہ طور پر بولی لگانے والے مقابل کے طور پر ابھرا ہے۔ مملکت پہلے ہی موٹر ریسنگ، گولف اور جنگی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی حاصل کرچکا ہے۔

یاد رہے کہ سال 2030 تک کی دہائی سعودی عرب کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے ۔اس کی سب سے نمایاں وجہ سعودی عرب کو اقتصادی اور ثقافتی طور پر متنوع بنانے کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا پروگرام ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ ایکسپو ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ریاض میں ہونے والی طویل عالمی نمائش کا مرکزی موضوع ہے "تبدیلی کا دور: دور اندیشی پر مبنی مستقبل کے لیے ایک ساتھ " ۔

اس نمائش کے اہمتام وانصرام کا حقدار ٹھہرنے کیلئے ریاض کے ساتھ ساتھ روم اور سیول نے سر توڑ کوششیں کی تھیں۔ جنوبی کوریا کے صدر نے اس حوالے سے گذشتہ ہفتے فرانس کا دورہ کیا تھا جب کہ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی فرانس اور دیگر ممالک میں روم کے حق میں بڑھ چڑھ کر مہم چلائی۔

جنوبی کوریا نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون کو اپنی بولی کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اٹلی کی اداکار سبرینا امپیکیٹور اور ڈیوس کپ جیتنے والی ٹینس سٹار جنیک سنر کو مہم کا حصہ بنایا۔

سعودی عرب کے لیے، فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو، جو سعودی کلب النصر کے لیے کھیلتے ہیں، کا بھی اس حوالے سے ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا تھا۔ان کے نزدیک ریاض ایک حیرت انگیز شہر ہے اور یہ آپ سب کے استقبال کے لیے تیار ہے۔

2030 کی عالمی نمائش کے لیے ابتدائی دیگر بولیاں روسی دارالحکومت ماسکو اور یوکرین کے شہر اوڈیسا سے سامنے آئی تھیں۔ تاہم روس نے یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد مئی 2022 میں اپنی بولی واپس لے لی تھی، جبکہ اوڈیسا اس سال جون میں اعلان کردہ تین ممالک کی حتمی فہرست میں جگہ نہیں بنا سکی تھی۔

واضح رہے کہ آخری عالمی نمائش، ورلڈ ایکسپو 2020،متحدہ امارات کے شہر دبئی میں منعقد ہوئی تھی۔ اگلی ورلڈ ایکسپو 2025 میں اوساکا، جاپان میں منعقد ہو گی جس کا موضوع ہے ’ہماری زندگیوں کے لیے مستقبل کی سوسائٹی کو ڈیزائن کرناـ‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں