بلنکن کی رام اللہ میں محمود عباس سے ملاقات،غزہ میں شہریوں کے تحفظ پر زور

امریکی وزیر خارجہ اسرائیلی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد بکتر بند گاڑی میں فول پروف سکیورٹی میں رام اللہ پہنچے جہاں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان سے ملاقات کی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ سیکرٹری انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو جنوبی غزہ میں شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں کہا کہ بلنکن نے نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جنوبی پٹی میں کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل انسانی ضروریات اور شہریوں کے تحفظ کو مدنظر رکھا جائے۔

ملر نے مزید کہا کہ بلنکن نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ساتھ ہی اسرائیل کو مغربی کنارے میں تشدد کے لیے انتہا پسند آباد کاروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اسرائیل کے دورے کے بعد امریکی وزیر خارجہ رام اللہ پہنچے جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پیُ نے تصدیق کی۔ بلنکن یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے فوراً بعد ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔

امریکی وزیر خارجہ نے آج صبح کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پٹی میں قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کے داخلے کی روشنی میں نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی جاری رہے گی۔

انہوں نے تل ابیب میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ "جنگ بندی کا عمل ثمر آور اور اہم ہے۔ہمیں امید ہے کہ یہ جاری رہے گا"ْ

رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ "امریکا اپنے دفاع کے حق میں اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ 7 اکتوبر کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں"۔ ان کا اشارہ سات اکتوبر کی طرف تھا جب حماس کی طرف سے جنوبی اسرائیل پر حملہ کردیا تھا۔

غزہ میں جنگ بندی کامیاب ثابت ہوئی

بلنکن نے جمعرات کو کہا کہ غزہ میں جنگ بندی قیدیوں کو آزاد کرنے اور غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچانے میں کامیاب ثابت ہوئی ہے اور امریکا کو امید ہے کہ یہ جاری رہے گی۔

بلنکن نے "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "مجھے غزہ میں آزاد کیے گئے یرغمالیوں میں ایک اور امریکی کی موجودگی دیکھ کر خوشی ہوئی۔ لڑائی کا خاتمہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے"۔

مذاکرات سے واقف ایک ذریعے نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکا نے اسرائیل پر جنگ بندی کو مزید ایک دن تک بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

تیسرا دورہ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جمعرات کو تل ابیب پہنچے۔ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے خطے کا ان کا تیسرا دورہ ہے۔

بلنکن عارضی جنگ بندی میں توسیع پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اسرائیلی رہ نماؤں سے ملاقات کریں گے۔ وہ قیدیوں کےتبادلے اور غزہ کے لیے انسانی امداد کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ایک فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ بلنکن کے مقبوضہ مغربی کنارے کا بھی دورہ کرنے کی توقع ہے اور امکان ہے کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔

امریکی وزیرخارجہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے دورے کے دوران غزہ میں جنگ بندی کو جاری رکھنے کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے جاری رہنے کا مطلب مزید امداد کا داخلہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں