اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز غزہ میں امداد کی ترسیل میں اضافے کا خیرمقدم کیا جو عارضی جنگ بندی کی بدولت ممکن ہوا لیکن خبردار کیا کہ فلسطینی سرزمین کی وسیع ضروریات کی تکمیل کو شروع کرنے کے لیے بھی یہ کافی نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں امداد کی روانی – 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امداد کی سب سے بڑی تعداد – ایک "صحیح آغاز" تھا۔
ترجمان جیمز ایلڈر نے غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ میں بتایا، "(یہ) یقیناً صحیح قسم کی امداد ہے - ایندھن، ادویات، خوراک، گرمائش۔"
لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ 20 لاکھ سے زیادہ آبادی والے محصور انکلیو میں ضروریات اتنی وسیع ہیں کہ "یہ تمام امداد ایک ابتدائی ترجیحی جائزہ ہے۔ یہ ابتدائی ترجیحی جائزے کے لیے بھی ناکافی ہے۔"
جب ہر اس شخص کے علاج کے لیے وسائل ناکافی ہوں جسے اس کی ضرورت ہو تو ہسپتالوں اور امدادی تنظیموں کو ٹرائیج یعنی ایک ابتدائی ترجیحی جائزہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے – جس کا مطلب ہے کہ انتہائی ضروری کیسز یا ان لوگوں کو ترجیح دینا جن کے زندہ بچ جانے کا سب سے زیادہ امکان ہو اور دوسروں کو چھوڑ دینا۔
ایلڈر نے کہا۔ "امداد کو کئی گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت یہاں ہر چیز کے لیے ہنگامی نگہداشت ضروری ہے۔"
عالمی ادارۂ صحت کی مارگریٹ ہیرس نے اس بات سے اتفاق کیا۔
ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے بریفنگ میں بتایا، "ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ ہم جتنی امداد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں وہ اب بھی ایک قطرے سے زیادہ نہیں۔"
ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے ابتدائی چار روزہ جنگ بندی میں دو دن کی توسیع کا آغاز کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ سے رہا کرنا ممکن ہوا ہے۔
جنگ بندی سے لڑائی رک گئی جو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائی کرنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں کم از کم 15,000 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ حماس کے جنگجو اسرائیل کی سرحدوں میں داخل ہوئے جس کے نتیجے میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ تقریباً 240 افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا تھا جس کے بدلے میں اسرائیل نے فوجی کارروائی کی۔
'دل دوز'
ایلڈر نے کہا، "جنگ بندی نے " نازک حالات میں امداد حاصل کرنے اور لوگوں کے اپنے عزیزوں کی تلاش کا دل دوز کام کرنے کے لیے چند لمحوں کی مہلت دی ہے۔"
انہوں نے کہا، "لڑائی میں وقفے کو طول دینے اور مستقل جنگ بندی میں بدلنے کے لیے یہ ضروری تھا۔"
"یہ سوچنا بہت ظالمانہ اور سردمہر ہوگا کہ ہم پلٹ کر گھروں اور بچوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو دوبارہ تباہ کرنا شروع کر سکتے ہیں۔"
اس کے ساتھ ہی لڑائی میں محض ایک عارضی وقفے کے دوران غزہ میں صفائی اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس جیسی چیزوں کے دوبارہ ٹھیک طریقے سے کام کرنے کا "کوئی راستہ نہیں"۔
ایلڈر نے کہا، اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو غزہ میں "بچوں کا بڑے پیمانے پر قتل" جاری رہے گا، ایک ایسے وقت میں جب وہاں کے شہری پہلے سے بھی زیادہ غیر محفوظ ہیں - کئی لوگ سرد موسم، غذائی قلت، صاف پانی کی کمی اور بیماریوں کے خطرے کے ساتھ باہر رہتے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی بمباری دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کے بارے میں انہوں نے کہا، یہ "ہر ایک کے ضمیر پر سیاہ داغ ہو گا"۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ گنجان آباد علاقے میں کچھ متعدی بیماریوں میں "بڑے پیمانے پر اضافہ" دیکھ رہا ہے - بشمول چھوٹے بچوں میں 45 گنا زیادہ اسہال کے معاملات - جب کہ زیادہ تر ہسپتال کام کرنے سے قاصر تھے اور صحت کی نگہداشت کا نظام انحطاط پذیر تھا۔
جب تک صحت کا نظام درست نہ ہو جائے اور غزہ کو خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی چیزیں قابلِ اعتماد طریقے سے فراہم نہ کی جائیں، ہیرس نے خبردار کیا کہ "آخرِکار ہم بمباری سے زیادہ لوگوں کو بیماری سے مرتے ہوئے دیکھیں گے۔"
-
متحدہ عرب امارات میں زیرِ علاج 1000 بچوں میں سے غزہ کی 10 سالہ بچی کی کہانی
وہ کبھی سو جاتی اور کبھی جاگ جاتی تھی۔ اس کے چہرے کے ایک طرف زخموں کے نشانات اب ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی کامیاب ثابت ہوئی،چاہتے ہیں یہ جاری رہے: بلینکن
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے جمعرات کو اسرائیل کے دورے کے دوران تل ابیب میں ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کو جنگ بندی میں توسیع کے بعد رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کی نئی فہرست موصول
اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ اسے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے خواتین اور بچوں کی ...
مشرق وسطی