اٹلی کی باضابطہ طور پر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام سے علیحدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حکومتی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ اٹلی نے چین کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کو چھوڑ رہا ہے۔ یہ اطلاع اس خدشے کو مسترد کرتے ہوئے دی گئی کہ اس فیصلے سے تعلقات خراب اور اطالوی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

2019 میں اٹلی تجارت و سرمایہ کاری کے اس پروگرام میں شامل ہونے والا اولین اور اب تک کا واحد بڑا مغربی ملک بن گیا جس نے ریاست ہائے متحدہ کے انتباہات کو نظر انداز کیا کہ اس سے چین کو حساس ٹیکنالوجیز اور اہم بنیادی ڈھانچے کا کنٹرول سنبھالنے کا موقع مل سکتا ہے۔

تاہم جب وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے گذشتہ سال عہدہ سنبھالا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے سے دستبردار ہونا چاہتی تھیں جسے صدر شی جن پنگ کی زبردست حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سے اٹلی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

2019 کے معاہدے کی میعاد مارچ 2024 میں ختم ہو رہی ہے اور اطالوی حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ روم نے بیجنگ کو "حالیہ دنوں میں" ایک خط بھیجا جس میں چین کو مطلع کیا گیا کہ اٹلی اس معاہدے کی تجدید نہیں کرے گا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اٹلی کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ "زبردست کشش اور عالمی اثر و رسوخ" کا حامل ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے معمول کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا، "چین بیلٹ اینڈ روڈ کے تعاون کو نقصان پہنچانے والی بدعنوانی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور کیمپ کے تصادم سے پیدا ہونے والی تقسیم کا مخالف ہے۔"

اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اطالوی حکومت کے ایک دوسرے ذریعے نے کہا کہ اٹلی "چین کے ساتھ بہترین تعلقات" کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے حالانکہ وہ معاہدے کا مزید حصہ نہیں رہا۔

انہوں نے مزید کہا، "دیگر جی سیون ممالک کے چین کے ساتھ ہم سے زیادہ قریبی تعلقات ہیں اس حقیقت کے باوجود کہ وہ کبھی (بی آر آئی) میں نہیں تھے۔"

اٹلی 2024 میں جی سیون کی صدارت سنبھالے گا۔

2013 میں شروع ہونے کے بعد سے اب تک 100 سے زائد ممالک نے چین کے ساتھ بی آر آئی کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیراتی منصوبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس وقت کے اطالوی وزیرِ اعظم جوسیپے کونٹے نے 2019 میں دستخط کرتے وقت تجارتی منفعت کی امید ظاہر کی تھی لیکن تجارتی اعداد و شمار کے مطابق چینی فرموں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔

اطالوی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین کو اٹلی کی برآمدات گذشتہ سال 16.4 بلین یورو (17.7 بلین) تھیں جو 2019 میں 13 بلین یورو تھیں۔ اس کے برعکس اٹلی کو چینی برآمدات اسی عرصے کے دوران 31.7 بلین سے بڑھ کر 57.5 بلین ہو گئیں۔

اٹلی کے مرکزی یورو زون کے تجارتی شراکت دار فرانس اور جرمنی نے بی آر آئی کا حصہ نہ ہونے کے باوجود گذشتہ سال چین کو نمایاں طور پر زیادہ برآمدات کیں جو پرانی شاہراہِ ریشم پر مبنی ہے جو چین کو مغرب سے جوڑتی ہے۔

تزویراتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے ستمبر میں بیجنگ کا دورہ کیا اور صدر سرجیو ماتاریلا اگلے سال چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔

میلونی نے خود کہا ہے کہ وہ بیجنگ جانا چاہتی ہیں لیکن کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

روم میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کچھ مجوزہ تجارتی کنٹرول کو ویٹو کر دیا یا اطالوی ہم منصبوں پر چینی کمپنیوں کے تسلط کو محدود کیا جس سے اس معاہدے کے بارے میں ان کے شکوک و شبہات کا اظہار ہوتا تھا۔

جون میں تزویراتی اثاثوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے "سنہری طاقت" کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے میلونی کی کابینہ نے اطالوی ٹائر ساز پیریلی پر چینی حصے دار سینوکیم کے اثر و رسوخ کو روک دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں