فلسطین اسرائیل تنازع

برطانوی وزیرِ دفاع کا غزہ کی امداد بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کے لیے شرقِ اوسط کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیرِ دفاع گرانٹ شیپس کے دفتر نے جمعرات کو کہا کہ وہ انسانی امداد تیزی سے پہنچانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کا استعمال کریں گے جس میں براہِ راست غزہ تک سمندری راستے بھی شامل ہیں۔

وہ وہاں کے رہنماؤں سے غزہ میں شہریوں کو مزید امداد فراہم کرنے کے آپشنز، برطانیہ فلسطینی اتھارٹی کی کس طرح مدد کر سکتا ہے اور یرغمالیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ شرقِ اوسط میں مزید کشیدگی کو روکنے کی کوششوں پر بات کریں گے۔

شیپس نے کہا۔ "ہم امداد حاصل کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے اور تیز ترین اور براہِ راست ترین راستے کے ذریعے اشد ضرورت کے حامل افراد کی مدد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس میں زمین، سمندر اور ہوا کے اختیارات (آپشنز) شامل ہیں۔"

اس ہفتے کے شروع میں شیپس نے کہا تھا کہ برطانیہ شرقِ اوسط میں طبی اور انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے فوجی امدادی جہاز آر ایف اے لائم بے بھیجنے پر غور کر رہا تھا۔

شیپس کے دفتر نے بتایا کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِ داخلہ جنرل زیاد حب الریح سے ملاقات کرنی ہے تاکہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بات کی جائے جبکہ تل ابیب میں وہ اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ سے "سلامتی کی موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے اور اسرائیل کے اگلے اقدامات" کے سلسلے میں ملاقات کریں گے۔

شیپس جنوبی اسرائیل میں کبوتز کفار عزہ کا بھی دورہ کریں گے جس پر حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا تھا۔

7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں نے اسرائیلی قصبوں پر یلغار کر دی تھی جس میں اسرائیل کے اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے نتیجے میں اسرائیل نے غزہ پر زبردست اور بے دریغ بمباری کر دی۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں اس وقت سے اب تک 16,015 اموات ہوئی ہیں جن میں سے 43 منگل کو ایک ہسپتال اور 73 بدھ کو دوسرے ہسپتال میں رپورٹ ہوئے۔ لیکن روئٹرز پیر کے بعد سے وزارت کے ترجمان تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے جو تمام غزہ کے لیے روزانہ ہلاکتوں کی تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہیں جس سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا نئی مجموعی تعداد جامع تھی یا نہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size