غزہ پر بمباری کو جلد از جلد بند کیا جانا چاہیے: ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے جمعرات کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کو جلد از جلد روکنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

ماسکو میں روسی صدر پوتین کے ساتھ بات چیت کے دوران ابراہیم رئیسی نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی صورتحال نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ غزہ کی پٹی پر بمباری کو جلد از جلد بند کیا جانا چاہیے۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے نسل کشی کے مترادف ہیں اور یہ بمباری جلد از جلد بند ہونی چاہیے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہوگئی ہے۔

اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد جواب میں غزہ پربمباری شروع کردی تھی۔ 27 اکتوبر کو اسرائیلی فوج زمینی کارروائی کے لیے غزہ میں داخل ہوگئی۔ لڑائی کے ان 62 دنوں میں صہیونی فوج نے 17177 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔

غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے کے سب سے بڑے شہر خان یونس میں اسرائیلی فوجی بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ساتھ شہر کے مرکز میں پہنچ گئے۔ اسرائیلی فوج ٹینکوں اور بڑے بلڈوزروں کا استعمال کرتے ہوئے زمینی راستے سے پیش قدمی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خان یونس اور جبالیا کیمپ میں شدید لڑائی جاری ہے۔

زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے بھی رفح شہر سمیت غزہ کے کئی علاقوں پر بمباری جاری رکھی جس سے پٹی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بے گھر ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں