فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا جنگی جنون، گرفتاری کے بعد نیم برہنہ کیے گئے فلسطینی عام شہری نکلے

اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف انتقامی حربے کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ نیم برہنہ لوگوں میں بزرگ اور کم عمر بچے بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج کی طرف سے درجنوں فلسطینی شہریوں کو برہنہ اور ہتھکڑیاں لگا کرگرفتار کرنے کرنے کے مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

گذشتہ روز میڈیا میں درجنوں فلسطینیوں کی تصاویر سامنے آئی تھیں جنہیں نیم برہنہ حالت میں ایک جگہ ہاتھوں میں ہھتکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بٹھایا گیا تھا۔ صہیونی قابض فوج نے گرفتار فلسطینیوں کے بارے میں دعویٰ کہا کہ ان کا تعلق فلسطینی عسکری گروپوں سے ہے۔

تاہم صہیونی فوج اپنے اس دعوے کو سچ ثابت نہیں کرسکی۔ اس کے برعکس ایسے ثبوت سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ برہنہ کیے گئے زیادہ تر عام شہری تھے۔ ان کا سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں۔

"انتقام کی مہم"

اس تناظر میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’اونروا‘ میں چیریٹیبل ورکس کے ڈائریکٹر ہانی المدھون نے بتایا کہ انہیں اپنے 13 سالہ بھائی اور اس کے 72 سالہ والد کی گرفتاری کے بارے میں معلوم ہوا۔ انہیں گذشتہ جمعرات کو پھیلنے والے کلپس میں دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے واشنگٹن سے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے انھیں ایک ویڈیو سے پہچانا جو میں نے سوشل میڈیا پر دیکھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فورسز نے ان کے بہنوئی اور بھتیجے کو بھی بیت لاہیا میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا حالانکہ ان دونوں کا کسی جنگجو گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔

اسرائیل نے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر کے ان کے کپڑے اتروا دیے۔
اسرائیل نے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر کے ان کے کپڑے اتروا دیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا بھائی دو میٹر بھی نہیں چل سکتا وہ لڑائی کیا کرے گا۔ انہوں نے ان کی گرفتاری کو "انتقامی مہم اور ان کی تذلیل اور ان کے اہل خانہ کو انہیں برہنہ کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا‘‘۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے چاروں حراست میں لیے گئے رشتہ داروں کو کل جمعہ کو میڈیا میں ان کے دفاع کی مہم کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب خاندانوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے تصدیق کی ہے کہ تصاویر اور ویڈیوز میں موجود بہت سے مردوں کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی پتا نہیں چلاکہ انہیں کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔

کل جمعہ کو ریڈ کراس نے ایک بیان میں تمام قیدیوں کے ساتھ انسانیت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قیدیوں کو برہنہ کرنے پر اپنی گہری تشویش اظہار کیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیل نے ان گرفتاریوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتار کیے گئے متعدد افراد کا تعلق حماس کے ساتھ ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے کل جمعہ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کے علاقوں جبالیہ اور شجاعیہ میں فوجی خدمات کی عمر کے مردوں کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور یہ تعین کیا جائے گا کہ اصل میں حماس سے کون تعلق رکھتا ہے"۔

اس کے باوجود کئی انسانی تنظیموں نے اسرائیل کے اس رویے پر تنقید کی اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے زیادہ تر افراد فوجی سروس کی عمر کے نہیں ہیں۔ وہ سب عام شہری ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں