جنوبی کوریا کے اپوزیشن لیڈر کو سرعام گردن میں چھرا گھونپ دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی کوریا کی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لی جائی میونگ کو منگل کو جنوبی شہر بوسان کے دورے کے دوران گردن میں چھرا گھونپا گیا اور انہیں علاج کے لیے یونیورسٹی کے اسپتال لے جایا گیا۔

مقامی میڈیا نے بتایا کہ لی جائے میونگ کو ہسپتال لے جایا گیا۔ حکام نے خبر رساں ایجنسی یونہاپ کو بتایا کہ گوکہ خون زیادہ نکل جانے کا خطرہ ہے لیکن زخم جان لیوا نہیں ہے۔

مقامی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور پچاس اور ساٹھ برس کے درمیان کا شخص معلوم ہوتا ہے۔ وہ میونگ سے آٹو گراف لینے کے بہانے ان کے قریب پہنچ گیا تھا۔ حملہ آور نے اچانک چھلانگ لگائی اور میونگ کی گردن پر بائیں جانب چھرا گھونپ دیا۔

اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میونگ زمین پر پڑے ہیں اوران کی آنکھیں بند ہیں۔ ان کے آس پاس کے لوگ ان کی گردن پر رومال رکھ کر خون کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ گوکہ خون زیادہ نکل جانے کا خطرہ ہے لیکن زخم جان لیوا نہیں ہےحکام نے بتایا کہ گوکہ خون زیادہ نکل جانے کا خطرہ ہے لیکن زخم جان لیوا نہیں ہے

چوسن البو نامی اخبار کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ میونگ کو "گردن پر ایک سینٹی میٹر کا زخم آیا ہے۔" اس واقعے کے فوراً بعد انہیں ہوائی جہاز کے ذریعہ ایک ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

دریں اثنا یونہاپ خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور کو جائے وقوع سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔

لی میونگ اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ سن 2022 کے صدارتی انتخابات میں قوم پرست رہنما یون سے بہت معمولی فرق سے ہار گئے تھے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب جنوبی کوریا کے پارلیمانی انتخابات چند ماہ بعد ہونے والے ہیں۔ امید ہے کہ ملک میں اپریل میں عام انتخابات ہوں گے۔

جنوبی کوریا کے اپوزیشن لیڈر
جنوبی کوریا کے اپوزیشن لیڈر

حملے کی صدارتی مذمت

جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر یون سک یول نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور میونگ کو اپنی مکمل حمایت کی پیش کش کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے، "یون نے اس بات پرزور دیا کہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی حالت میں اس قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔"

سیاسی تشدد کی تاریخ

جنوبی کوریا میں سیاسی تشدد کی تاریخ ہے حالانکہ اس میں بندوق رکھنے پر سخت پابندیاں ہیں۔ بڑی تقریبات میں پولیس کی موجودگی ہوتی ہے لیکن سیاسی رہنما عام طور پر قریبی حفاظتی حصار میں نہیں ہوتے۔

لی کے پیشرو، سونگ ینگ-گل، پر 2022 میں ایک عوامی تقریب میں ایک حملہ آور نے حملہ کیا تھا، جس نے اس کے سر پر ایک ٹھوس چیز پھینک دی تھی، جس کے نتیجے میں زخم آئے تھے۔

اس کے بعد قدامت پسند اپوزیشن پارٹی کی رہنما پارک گیون ہائے، جنہوں نے بعد میں صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، کو 2006 میں ایک تقریب میں چھرا گھونپ دیا گیا تھا اور ان کے چہرے پر زخم آئے تھے جس کے لیے سرجری کی ضرورت تھی۔

ان کے والد پارک چنگ ہی، جو فوجی بغاوت میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 16 سال تک صدر رہے، کو 1979 میں ایک نجی عشائیے میں ان کے ناراض جاسوس سربراہ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

2015 میں، اس وقت کے جنوبی کوریا میں امریکی سفیر، مارک لیپرٹ، پر ایک حملہ آور نے ایک عوامی تقریب میں شرکت کے دوران حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے پر زخم آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں