نیٹو کی دہائیوں بعد غیر معمولی جنگی مشقیں، نوے ہزار فوجیوں کی شرکت متوقع
امریکی قیادت میں مغربی ممالک کے 31 رکنی فوجی اتحاد نیٹو نے کئی دہائیوں بعد اپنے سب سے بڑی جنگی مشقوں کے شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ امکانی طور پر اگلے ہفتے شروع ہونے والی مشقوں کے ماہ مئی تک جاری رہنے کا بتایا گیا ہے۔
کئی عشروں کے بعد امریکہ اور مغربی ملکوں کو دنیا کے ایک سے زائد اہم حصوں میں چیلنجوں کے مستقبل میں بڑھنے کا احساس ان وسیع پیمانے پر کی جانے والی مشقوں کی بنیاد بن رہا ہے۔ ان چیلنجوں میں یوکرین پر روسی حملے کی صورت میں مغربی ملکوں کے لیے براہ راست فوجی چینج کے علاوہ چین کی طرف سے اقتصادی میدان میں نئی الائنمنٹ جبکہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں بھی اہم سٹریٹجک انگڑائیاں سمجھی جا رہی ہیں۔
نیٹو کی طرف سے بتایا گیا کہ مجموعی طور پر ان جنگی مشقوں میں 90 ہزار فوجی افسر اور اہلکار شامل ہوں گے۔ واضح رہے برطانیہ نے پچھلے ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ چار دہائیوں کے دوران یہ پہلی نیٹو مشقیں ہوں گی جن میں بیس ہزار کی تعداد میں برطانوی فوجی شریک ہوں گے۔
نیٹو ممالک کی اتنی بڑی فوجی قوت کی ان مشقوں کے پس منظر میں وہ چیلنج ہیں جو امریکہ اور دوسرے نیٹو رکن ملکوں کی فوجی اہلیت و مہارت کا درست اندازہ کرنے کا تقاضابن گئے ہیں۔ مبصرین ان جنگی مشقوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اگلے کئی برسوں کے لیے جنگی پالیسیوں اور ممکنہ فیصلوں کو کھوجنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ نیٹو ملکوں کی اہم ترین مشقوں میں سویڈن کو بھی شامل کیا جارہا ہے جو ابھی نیٹو کا باضابط رکن نہیں بن سکا ہے۔ ان جنگی مشقوں میں بری ، بحری اور فضائی افواج شامل ہوں گی۔
-
سعودی عرب اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز
سعودی عرب اور پاکستان کی بری افواج کی مشترکہ مشقیں کا آغاز ہو گیا جن میں شرکت کے ...
پاكستان -
پاکستان فوج نویں طاقتور ترین فوجی طاقت ہے: گلوبل فائر پاور انڈیکس رپورٹ
ویب گاہ ’گلوبل فائر پاور‘ نے دنیا بھر کی افواج کی طاقت کے حساب سے فہرست جاری کی ہے ...
ایڈیٹر کی پسند -
صدر جوبائیڈن اسرائیلی وزیراعظم سے مایوس، نیتن یاھو کے متبادل پر غور
غزہ کی پٹی پر 3 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے ...
مشرق وسطی