جمعرات کے روز ایک حملہ آور نے استنبول کے قریب امریکی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کی ملکیتی ایک فیکٹری میں غزہ کی پٹی میں جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔
ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ استنبول کے مشرقی مضافات میں واقع اس فیکٹری میں کتنے افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
مسلح يحتجز نحو 7 رهائن في مقر شركة "بروكتر آند جامبل" الأميركية في #إسطنبول احتجاجاً على استمرار الحرب على #غزة حسب ما نقلت وسائل إعلام تركية#العربية pic.twitter.com/JtczgB91hD
— العربية (@AlArabiya) February 1, 2024
7 یرغمال بنائے گئے
فیکٹری میں مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی ایک یونین نے وضاحت کی کہ حملہ آور نے سات افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کا کہنا تھاکہ باقی مزدوروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
نجی ڈی ایچ اے نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ حملہ آور بندوق اٹھائے ہوئے ہے اور اس نےبارودی جیکٹ پہن رکھی ہے۔
"غزہ کے لیے"
حملہ آور فلسطینی پرچم کے ایک ڈرائنگ کے قریب کھڑا تھا جب کہ دیوار پر سرخ رنگ میں "غزہ کے لیے" کا جملہ لکھا ہوا تھا۔
سائٹ کی تصاویر میں پولیس کو کاسمیٹکس بنانے والی وسیع و عریض فیکٹری کا محاصرہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خصوصی آپریشن ٹیمیں اور ایمبولینسیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئی ہیں۔