ہمارا بحری بیڑہ آبنائے ہرمز سے باب المندب کی طرف جائے گا: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی بحری بیڑے کے باضابطہ آغاز کی توقع کی جا رہی تھی اب یوروپی یونین نے باضابطہ طور پر اپنے سرکاری گزٹ میں جہاز رانی کی آزادی کے دفاع میں اس میری ٹائم آپریشن کی تشکیل کا فیصلہ شائع کیا۔

یونین نے آج پیر کے روز شائع ہونے والے فیصلے میں تصدیق کی ہے کہ یورپی بحری بیڑے آبنائے ہرمز سے باب المندب اور بحیرہ احمر تک پھیلے ہوئے علاقے میں منتقل ہوں گے۔

یورپی یونین نے یہ بھی وضاحت کی کہ "ایڈمرل واسیلیوس گریپاریس" اس آپریشن کی قیادت کریں گے۔ اس کا سرکاری ہیڈکوارٹرز یونان میں "لاریسا" ہوگا۔

یونین نے یاد دلایا کہ بحری بیڑے کا مشن حوثی حملوں اور بحری قزاقی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں تجارتی جہازوں کو ممکنہ حملوں سے بچانا ہوگا۔

یونین نے گزشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کی حفاظت کے لیے جلد ہی ایک یورپی بحری مشن شروع کیا جائے گا جسے بین الاقوامی سطح پر ایک اہم شپنگ لین سمجھا جاتا ہے۔

العربیہ اردو نے اس وقت انکشاف کیا تھا کہ اس مشن کو "Aspidas Plan" کا نام دیا گیا ہے اور اس کی قیادت یونان کرے گا۔ اس کا باقاعدہ آغاز 19 فروری کو یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس بحری بیڑے کا 8 ملین یورو کا بجٹ یورپی یونین کے خزانے کی طرف سے فراہم کیا جارہا ہے۔
قابل ذکر یہ امر ہے کہ یہ یورپی اقدام حوثی گروپ کے کارگو جہازوں پر حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں