جوبائیڈن نے لندن، برلن اور ٹورنٹو کو امریکی شہر کہہ کر نیا شوشہ چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن اکثر چیزیں بھول جاتے ہیں اور ادھر ادھر کی ہانکنے کی وجہ سے انہیں عوامی، سیاسی اور ابلاغی حلقون میں طنز اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جوبائیڈن اس حال میں بھی دوبارہ امریکی صدر بننے کی مہم چلا رہے ہیں مگرآئے روز ان کی زبان کی پھسلن اور یاداشت کے مسائل ان کے لیے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں۔

کل منگل کو لاس ویگاس میں دوائیوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں ایک تقریر کے دوران 81 سالہ ڈیموکریٹک صدر نے کہا کہ لندن اور برلن کے ساتھ ساتھ ٹورنٹو امریکہ کے شہرہیں۔

اپنی تقریرمیں انہوں نے پہلے ملک میں ادویات کی قیمتوں پر تنقید کی اور کہا کہ "اگر امریکی مغربی شہروں کا سفر کرتے ہیں تو وہ وہی ادویات سستی قیمت پر خرید سکیں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں ہوائی جہاز سے ٹورنٹو، برلن، لندن، روم، یا امریکہ کے کسی دوسرے بڑے شہر کا سفر کرنے دیں آپ دیکھیں گے کہ دوائیوں کی قیمت 40 فیصد سستی ہیں"۔

ایک ہفتے کے اندر یہ دوسرا موقع ہے جب بائیڈن نے امریکہ کے حوالے سے معلوماتی غلطی کی ہے۔

پچھلے ہفتے ملواکی میں ایک تقریر میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ میں افراط زر کی شرح سب سے کم ہے۔

اپنے بیان کے دوران انہوں نے افراط زر کو کم کرنے کی اپنی کوششوں پر بھی فخر کیا جو 2022ء میں ریکارڈ سطح سے نیچے گر گئی تھی لیکن 2021 میں جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا اس سے کہیں زیادہ ہے۔

موجودہ صدرماضی میں بہت سے ایسے شرمسار کردینے والے بیانات دیے چکے ہیں۔ کچھ بین الاقوامی عہدیداروں اور شہروں کے نام بھول جانا، یا پروٹوکول کی غلطیوں کا ارتکاب یا دنیا بھر کے رہ نماؤں سے بات کرتے ہوئے زبان کا پھسل جانا معمول بن چکا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان خامیوں نے ان کے سخت حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے قیمتی مواد تشکیل دیا جو دوبارہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں بار بار جوبائیڈن کی ذہنی صلاحیت اور یاداشت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں