غزہ میں امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی تحقیقات آسٹریلیا کے ریٹائرڈ آرمی چیف کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلیا نے پیر کے روز ایک سابق فوجی سربراہ کو غزہ میں سات امدادی کارکنان کی ہلاکت کے معاملے میں اسرائیل کی تحقیقات کی نگرانی کا کام تفویض کیا اور ان ہلاکتوں کے لیے "مکمل احتساب" کا مطالبہ کیا ہے۔

آسٹریلوی شہری لالزاومی 'زومی' فرینکام گذشتہ ہفتے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے ورلڈ سینٹرل کچن کے رضاکاروں کے گروپ میں شامل تھیں۔

اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے اس واقعے کے نتیجے میں دو افسران کو برطرف کر دیا تھا لیکن اس کی وضاحت کی کوششیں بین الاقوامی غم و غصے کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے اسرائیل کے ابتدائی ردِعمل پر شدید تنقید کی ہے۔

پیر کو انہوں نے دفاعی فوج کے سبکدوش سربراہ مارک بنسکن کو جاری تحقیقات پر اسرائیلی فوج کے ساتھ کام کرنے کے لیے خصوصی مشیر مقرر کیا۔

انہوں نے کہا، "آسٹریلیا نے اسرائیلی حکومت پر اپنی توقعات اور اعتماد واضح کر دیا ہے کہ اس مشغولیت کو آسان بنایا جائے گا۔"

"آسٹریلوی حکومت واضح کر چکی ہے کہ ہم ان اموات کے لیے مکمل احتساب کی توقع کرتے ہیں۔"

ایک انتہائی قابلِ احترام سینئر افسر بنسکن جنہوں نے آسٹریلیا کی فضائیہ کی قیادت بھی کی، وہ "ذمہ داروں کے احتساب کے لیے کیے گئے اقدامات" کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آسٹریلوی حکومت کو یہ بھی مشورہ دیں گے کہ آیا مزید تحقیقات یا نتائج کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں قائم ورلڈ سینٹرل کچن -- جسے ہسپانوی-امریکی مشہور شیف جوز اینڈریس نے قائم کیا تھا -- نے کہا کہ اسرائیلی افواج کے ایک "ہدفی حملے" میں سات امدادی کارکن ہلاک ہو گئے۔

اس گروپ میں 43 سالہ آسٹریلوی شہری فرینکام کے ساتھ ساتھ برطانوی، فلسطینی، پولش اور امریکی-کینیڈین ملازمین بھی شامل تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان کی فوج نے "غیر ارادی طور پر" رضاکاروں کو ہلاک کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں