یمن اور حوثی

"پچھلے 72 گھنٹوں میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی حوثی ملیشیا کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے تازہ حملوں کی لہر کے دوران برطانوی ، امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کی اس سیریز کے دوران برطانوی بحری جہاز اور متعدد امریکی فریگیٹس پر حملے کیے گئے ہیں۔ یہ حملے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے تناظر میں کیے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جاری ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں نئے حملوں کا اہتمام پچھلے 72 گھنٹوں کے دوران کیا ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے اس امر کا اعلان ٹی وی پر جاری کیے گئے ایک نشریے میں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے ان تازہ حملہ سیریز کی تفصیل نہیں دی ہے۔

اس سے قبل برطانوی سیکیورٹی کمپنی ایمبری نے بتایا تھا کہ اسے اطلاعات ملی تھیں کہ اتوار کے روز ایک جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ خلیج عدن سے 102 سمندری میلوں کے فاصلے پر یمن کے علاقے مکالا کے جنوب مغرب میں پیش آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد جہازوں کو مزید خطرے کے پیش نظر ہدایت کی گئی کہ وہ اس علاقے میں محتاط رہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔ تاہم ' ایمبری ' نے مزید کوئی تفصیلات نہیں جاری کیں۔

علاوہ ازیں خلیج عدن میں ایک جہاز پر مزید میزائل حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ 59 سمندری میلوں کے فاصلے پر جنوب مغرب میں ہی کیا گیا ، لیکن جہاز کو کسی قسم کا نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

' یو کے ایم ٹی او ' کے مطابق جہاز کے کپتان نے جہاز پر میزائل حملے کی اطلاع دی مگر بتایا گیا ہے کہ میزائل کا اثر جہاز کے نزدیکی پانیوں تک محسوس کیا گیا۔ البتہ کوئی جانی یا کسی اور قسم کا مادی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل کس گروپ کی طرف سے داغا گیا اور اس کا اصل میں ہدف کسی اور ملک کا جہاز تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں