پیرس، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، ہزاروں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی ملکوں میں نسل پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اتوار کے روز نسل پرستی کے خلاف عوامی احتجاج فرانس میں کیا گیا ہے۔ دارالحکومت پیرس میں حالیہ مہینوں کے دوران نسل پرستی کے واقعات کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج میں مسلسل تیزی ہے۔
فرانس کے شہری مسلسل غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہونےوالی فلسطینیوں کی نسل کشی پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ یہ جنگ سات اکتوبر سے جاری ہے اور اب اس کے سات ماہ مکمل ہونےوالے ہیں۔ اب تک اس جنگ میں اسرائیلی فوج نے 34 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ ان 34 ہزار میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔

واضح رہے فرانس کے حکام نے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کو روک دیا جاتا ہے کہ اس سے یہود مخالف سوچ کا اظہآر ہو سکتا ہے۔ نتیجتا نفرت پر مبنی جرائم ہوں گے۔
واضح رہے فرانس ان ملکوں میں شامل ہے جن کی حکومتوں نے شروع دن سے غزہ میں لڑی جانے والی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مگر عوامی سطح پر اس جنگ خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اتوار کے روز ہزاروں مظاہرین نے غزہ میں ہونےوالی ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین فلسطینیوں کے حق میں اور جنگ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔سے لوگوں نے شمالی افریقی نژاد 17 سالہ ناہیل کو یاد کرتے ہوئے نعرے لگائے جسے گزشتہ سال پولیس ٹریفک اسٹاپ کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
پیرس کی پولیس کے سربراہ نے کہا اس احتجاج مظاہرے ابتدائج طوربپر روک دیا تھا اس روکنے کی وجہ یہ بن گئی تھی کیونکہ احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے منتظمین نے فرانسیسی پولیس کے تشدد کو غزہ کی جنگ سے تشبیہ دی تھی، اور انہیں لگا کہ یہ واقعہ امن عامہ کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم اس دلیل کو پیرس کی انتظامی عدالت نے اس بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے پولیس کے موقف کو مسترد کر دیا تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا، تمام بچوں کے تحفظ کے لیے لڑنا اور متحرک ہونا معمول کی بات ہے، ایسا ہونا چاہیے۔،
احتجاجی مارچ کے منتظمین میں سے ایک جن کا نام یسا بیلک گوڈجا نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا۔ ،اگر ہمیں احتجاج کرنے پر روکا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اب فرانس میں اظہار رائے کا حق نہیں ہے۔

فلسطینی پرچم میں لپٹی ہوئی یامینہ عیاض نے کہا سوشل میڈیا پر ہماری نگرانی کی جا رہی ہے۔ بہت ہو گیا، ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں