یورپی ممالک کا غرب اردن میں تشدد میں ملوث آباد کاروں کو سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ اکتوبر میں غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطین کے مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ آباد کاروں کے تشدد سے فلسطینی شہریوں کی اموات کے بعد بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند آباد کاروں اور ان کے گروپوں پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ اور سلامتی کی پالیسی کے کوآرڈینیٹر جوزپ بوریل نے آج سوموار کو یورپی خارجہ امور کی کونسل کے اجلاس سے پہلے بیان میں کہا کہ "ہمیں تشدد کرنے والے آباد کاروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے"۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران آباد کاروں کے تشدد کے بعد عاید کی گئی پابندیاں ناکافی ہیں۔

بوریل نے مزید کہا کہ آئرلینڈ اور اسپانیہ نے کونسل سے کہا کہ وہ اسرائیل کے رویے کا تجزیہ کرے اور اس کے مطابق یونین اوراسرائیل کے درمیان ایسوسی ایشن کے معاہدے پر غور کرے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو خارجہ امور کی کونسل میں شرکت کی دعوت دی، لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے لیے تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نیز بیلجیئم کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز العربیہ/الحدث کو بتایا کہ مغربی کنارے میں تشدد کرنے والوں اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔

حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں

کل اتوار کو مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر برائے امن ٹور وینس لینڈ نے فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے مہاجرین کے کمشنر جنرل نے بھی مغربی کنارے میں پناہ گزین کیمپوں سمیت بگڑتے ہوئے حالات سے خبردار کیا۔

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ نور شمس کیمپ میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے کی گئی حالیہ کارروائی میں "جانوں کا نقصان ہوا اور گھروں اور عوامی خدمات کو شدید نقصان پہنچا"۔

طولکرم میں نور شمس کیمپ سے
طولکرم میں نور شمس کیمپ سے

انہوں نے کہا کہ "اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جائے اور سیاسی طریقوں سے طویل ترین حل طلب تنازعہ کو حل کیا جائے"۔

آباد کاروں پر حملہ

فلسطینی وزارت صحت نے آج سوموار کو اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے کے رام اللہ میں برقہ قصبے پر آباد کاروں کے حملے میں براہ راست فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہو گئے۔

برقہ ولیج کونسل کے سربراہ سائل کنعان نے کل اتوار کو بتایا تھا کہ آباد کاروں نے گاؤں پر شمالی اور مغربی اطراف سے حملہ کیا اور ایک رہائشی کے بھیڑوں کے گودام کو نذرآتش کردیا۔

طولکرم میں نور شمس کیمپ سے
طولکرم میں نور شمس کیمپ سے

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے گاؤں پر دھاوا بولا اور رہائشیوں پر گولیاں، اسٹن گرنیڈ اور آنسو گیس پھینکی۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے جنوب میں الخلیل شہر پر دھاوا بول کر متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔

بھاری فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں کے درمیان نابلس کے مشرق میں واقع بلطا کیمپ پر ایک بڑی فوج نے دھاوا بول دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں