غزہ :لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن اورہزاروں ہلاکتوں کےبعد 'یہود مخالفت' میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی اینٹی ڈیفے میشن لیگ 'اے ڈی ایل' نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں ہزاروں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بعد سخت رد عمل کے طور پر یہود مخالف سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ 'اے ڈی ایل' نے خبردار کیا ہے کہ اس تناظر میں مغربی دنیا میں یہودیوں کا مستقبل خطرات کی زد میں رہے گا۔

'اے ڈی ایل' کی طرف سے شائع کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ' جنگ سے پہلے کے یہود مخالف واقعات میں بھی اضافہ تھا۔ لیکن اکتوبر میں اس میں بہت تیزی آگئی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ نے اس تصادم کی آگ پر مزید پیٹرول چھڑکا ہے جو پہلے ہی قابو سے باہر ہو رہی تھی۔'

تل ابیب یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی 'اے ڈی ایل ' کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں (اسرائیلی پالیسیوں کے باعث) جو یہود مخالف واقعات ہوئے وہ 2022 کے واقعات سے کہیں زیادہ تھے۔ یہ واقعات بالعموم ان ملکوں میں ہوئے جہاں یہودی اقلیت میں ہیں۔ ان میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، برازیل اور میکسیکو بھی شامل ہے۔

اہم بات ہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع کی گئی ہے جب اسرائیل میں ہولوکاسٹ کا یادگاری دن منائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نیویارک میں قائم ادارے 'اے ڈی ایل' کے سربراہ جوناتھن گرین بلیٹ کا کہنا ہے 'سات اکتوبر کے بعد جو کچھ ہوا اس نے یہود مخالف ماحول کو ایک سونامی کی شکل دے دی اور یہ سب دنیا میں دیکھنے میں آیا۔'

رپورٹ کے مطابق اس سال اس نوعیت کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ 2023 میں امریکہ میں بھی یہود مخالف واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ جس طرح کے ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اور بچوں کی اندھا دھند ہلاکتوں کے بعد امریکہ میں فلسطین کے حق میں آواز کو امریکی یونیورسٹیوں میں غیر معمولی حمایت ملی ہے۔ یہ سات ماہ کے دوران یہود مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے تازہ ترین محاذ بتایا جارہا ہے۔

اگرچہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ کی صورت میں سامنے آنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ یہود مخالف نہیں بلکہ اسرائیلی جنگ کے مخالف مظاہرین ہیں۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ رجحان طویل عرصے سے پایا جاتا ہے جو ان دنوں مزید شدت پکڑ گیا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں اور جنگوں کے خلاف بات کرنے والوں کو بھی یہود مخالف کہہ کر یہودی مذہبی کارڈ سامنے لے آیا جاتا ہے۔

خود اسرائیل کو بھی یہی حکمت عملی اپنی پالیسیوں کے خلاف بات کرنے والوں کے بارے میں زیادہ کار گر لگتی ہے کہ خود بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف بھی اقدامات کرتا رہے مگر جیسے ہی کوئی اس کے خلاف بولے تو ' ہولو کسٹ اور یہودی مذہبی کارڈ ' کو سامنے لے آتا ہے۔ اس میں امریکہ اور مغربی ملک اس کے ساتھ اس حکمت عملی کو لے کر چل پڑتے ہیں۔ تاہم اب امریکہ اور یورپی ملکوں کی نئی نسل میں یہودی مذہبی کارڈ کا یہ استعمال اور طریقہ واردات بے نقاب ہو رہا ہے۔

ہراسگی ، توڑ پھوڑ اور حملے

اینٹی ڈیفے میشن لیگ کی طرف سے رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 2022 کے دوران یہود مخالف واقعات کی تعداد 3697 تھی جبکہ 2023 کے دوران ان واقعات کی تعداد 7523 تک پہنچ گئی۔ یہ اندازہ ان واقعات سے کیا گیا ہے جو یہودیوں کے ہراساں ہونے ، ان کی طرف سے توڑ پھوڑ کی شکایات پیش کیے جانے اور حملوں کے حوالے سے یہودیوں کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔

'اے ڈی ایل' نے اس سے وسیع تر بنیاد پر صہیون مخالف بیانیے اور سرگرمیوں کے حوالے سے مزاحمت کے واقعات کو 2023 کے دوران 8873 ریکارڈ کیا جبکہ سات اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی حملے سے لے کر سال کے اواخر تک یہ تعاددا 5204 تک چلی گئی۔

فرانس جسے اسرائیل اور امریکہ کے بعد یہودی آبادی کا سب سے بڑا یورپی ملک سمجھا جاتا ہے میں 2022 کے دوران یہودیوں کو اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف رد عمل کے کل 436 واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ سال 2023 کے دوران ان واقعات کی تعداد بڑھ کر 1676 ہو گئی۔ اس دوران جسمانی طور پر ہاتھا پائی یا لڑائی اور حملوں کے واقعات 43 سے بڑھ کر 85 ہو گئے۔

برطانیہ میں یہہود مخالف واقعات 2022 میں 1662 سے بڑھ گئے اور 2023 میں یہ واقعات 4103 ہو گئے جبکہ جسمانی طور پر حملے کرنے کے واقعات 266 ہوئے۔ یہ سب واقعات ایک طرف لیکن ان واقعات میں ایندھن اور پیٹرول کا کام کرنے والی فلسطینیوں کی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں رہیں۔ جو اب 34683 ہو چکی ہیں۔ اور زخمی فلسطینیوں کی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے۔

تاہم 'اے ڈی ایل' نے فیصلہ کیا ہے کہ عالمی سطح پر یہودیوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو ہی رپورٹ کرے گی۔ تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر اوریا نے اس رپورٹ میں لکھا ہے اگر یہود مخالف یہ رجحان اسی طرح چلتا اور بڑھتا رہا تو مغربی دنیا میں بھی یہودیوں کی زندگیوں کے لیے مشکلات ہوں گی۔ تاہم دلچسپ بات ہے کہ اس رپورٹ میں اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے ایسا کوئی تبصرہ شامل نہیں کیا گیا کہ اسرائیلی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایسے اقدامات اور جارحیت کا از سر نو جائزہ لے جو یہود مخالفت کا باعث بننے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں