اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ طویل ترین جنگ کے دوران اتوار کے روز پانچ مئی تک 34683 فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ اعدادو شمار غزہ میں کام کرنے والی فلسطینی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں۔ ان سب فلسطینیوں کو اسرائیلی طیاروں کی بمباری، ٹینکوں کی گولہ باری اور سائپرز کی فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیآ گیا ہے۔
واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سات خوفناک اور ہلاکت انگیز ماہ مکمل ہونے والے ہیں ۔ اسی موقع پر اسرائیل نے یورپ اور امریکہ کی یوتھ نے طرف سے فلسطینیوں کی ان ہلاکتوں پر سخت رد عمل دینا شروع کر کے اسرائیل سے جنگ بند کرنےکا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے اس مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے ' ہولو کاسٹ ' کا یاد گاری دن منانے کا ہنگامی فیصلہ کیا ہے۔
ادھر غزہ میں وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کیے گئے مذکورہ بالا فلسطینیوں میں دو تہائی کے قریب تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ تاہم یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اس عرصے کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 78018 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ ۔ فلسطینیوں کی ان بہیمانہ طریقوں سے ہلاکتوں کے باعث بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے والے اقدامات کا حکم دے چکی ہے جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی اسرائیل اور اس کے اہم ترین عہدے داروں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔