یمن کے جنگ کی طرف لوٹنے کے خطرات پر تشویش ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کو سلامتی کونسل کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا یہ یمن کے جنگ کی بھٹی میں لوٹنے کے خطرات موجود ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

گرنڈ برگ نے اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ مجھے فریقین کی طرف سے جنگ کی طرف واپسی کی دھمکیوں پر تشویش ہے۔ انہوں نے ماریب کے حوالے سے حوثیوں کے بیانات اور اقدامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ مزید تشدد سے تنازع حل نہیں ہوگا بلکہ یہ ہمیں سیاسی تصفیہ تک پہنچنے کے موقع سے محروم کردے گا۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے مزید کہا کہ میں ایک بار پھر فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس نازک مرحلے کے دوران اپنے کاموں اور تقریر میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔ مجھے یقین ہے پرامن اور منصفانہ حل تک پہنچنا اب بھی ممکن ہے۔

گرنڈبرگ نے اشارہ کیا کہ وہ بین الاقوامی برادری اور علاقائی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور سلطنت عمان کے تعاون سے اقوام متحدہ کے روڈ میپ پر پیشرفت کے لیے فریقین کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم ایک جامع سیاسی عمل شروع کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی عمل دیرپا امن کی راہ ہموار کرے گا۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر مارٹن گریفتھس نے سلامتی کونسل کے سامنے بریفنگ کے دوران یمن میں خوراک کی قلت اور ہیضے کے پھیلاؤ سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں ہیضے کے پھیلاؤ کو روکنے کے منصوبوں پر کام جاری ہے لیکن انہیں فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن کے نمائندے نے یمنی حوثی گروپ کے لیے ایرانی حمایت پر اپنے ملک کی تنقید کا اعادہ کیا اور کہا کہ تہران کو یمن میں حوثیوں کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے اور انہیں ہتھیاروں کی فراہمی بند نہیں کرنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں