ایران کی عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری میڈیا کی خبر کے مطابق ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے عمان میں اپنے دشمن امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

واشنگٹن اور تہران طویل عرصے سے شدید اختلافات کا شکار ہیں جن کے درمیان کشیدگی کا مرکز ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام رہا ہے اور اس میں ان کے متعلقہ اتحادیوں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ کے باعث اضافہ ہوا ہے۔

جمعے کے روز امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیاس نے رپورٹ کیا کہ امریکی اور ایرانی حکام نے عمان میں بالواسطہ بات چیت کی کہ "علاقائی حملوں میں اضافے سے کیسے بچا جائے۔"

سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے ہفتے کے اواخر میں کہا، "اقوامِ متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔"

بات چیت کا وقت اور جگہ بتائے بغیر ایجنسی نے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ مذاکرات نہ پہلی بار ہوئے اور نہ ہی آخری ہوں گے۔"

یہ بات چیت ایران کی جانب سے 13-14 اپریل کو اسرائیل پر بے مثال ڈرون اور میزائل حملے کے بعد منعقد ہوئی تھی۔

حملوں کی یہ بوچھاڑ یکم اپریل کے ایک مہلک ہوائی حملے کے جواب میں تھی جس کا الزام بڑے پیمانے پر اسرائیل پر لگایا گیا جس میں دمشق میں ایرانی قونصل خانہ مسمار ہو گیا اور دو جرنیلوں سمیت پاسدارانِ انقلاب کے سات ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے 300 سے زائد میزائلوں اور ڈرونز میں سے زیادہ تر کو امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی مدد سے روک لیا گیا اور اس حملے سے صرف معمولی نقصان ہوا۔

ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد ایران کے وسطی صوبے اصفہان میں دھماکوں نے ایک جگہ کو ہلا کر رکھ دیا جسے امریکی میڈیا نے ایرانی حملے پر اسرائیل کے ردِعمل کے طور پر رپورٹ کیا۔

اس کے بعد تہران نے اسرائیلی حملے کی اطلاع کو مسترد کر دیا اور کہا ہےکہ جب تک ایرانی "مفادات" کو دوبارہ نشانہ نہ بنایا جائے، وہ اس کا جواب نہیں دے گا۔

اسرائیل 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کا حلیف دشمن رہا ہے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے آغاز کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس میں شام، لبنان، عراق اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کار گروپ شامل ہو گئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ ایران میں واشنگٹن کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔

دونوں دشمنوں نے حالیہ برسوں میں تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے اقدامات، قیدیوں کے تبادلے اور ایران کے منجمد فنڈز کو بیرونِ ملک جاری کرنے پر بالواسطہ بات چیت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں