کیا رئیسی کی وفات کے بعد "مزاحمتی محور" کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سال 2021ء میں جب ابراہیم رئیسی اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے توان کی تقریب حلف برداری میں "مزاحمتی محور " کے رہ نماؤں کے ایک گروپ نے بھی شرکت کی تھی اور انہیں اگلی صف میں بٹھایا گیا تھا تاکہ کیمرےانہیں نمایاں انداز میں دکھا سکیں۔

مزاحمت کا محور کہلوانے والوں میں لبنان، فلسطین، یمن، عراق اور حتیٰ کہ بحرین کے رہ نما بھی شامل تھے۔ یہ ایک پیغام تھا کہ یہ دھڑے ایک "ہارڈ پاور" کے طور پر ایران کے مفادات کے لیےکام کرتے ہیں۔ ایران جو مقاصد سفارتی ذرائع سے حاصل نہیں کر سکتا وہ ان کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر "ریاست سے باہر کی طاقتوں" کے ذریعے مفادات کا حصول ایران کی روایتی پالیسی ہے اور ایران کے ساتھ جڑے گروپ اور قوتیں مشترکہ مفادات کے حصول کےلیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔

آج ابراہیم رئیسی اس دنیا میں نہیں اور ان کی جگہ ایک نئے عبوری صدر محمد مخبر نے لے لی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ مزاحمتی قوتوں کے قریب سمجھے جانے والے وزیرخارجہ حسین امیر عباللہیان بھی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

رئیسی اور عبداللہیان دو ایسے افراد تھے جو "اسلامی انقلاب" کی اقدار پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں اور "سپاہ پاسداران انقلاب " کے ساتھ تعلقات درحقیقت وزیر عبداللہیان ہو سکتے ہیں۔ پڑوسی عرب ممالک کے بارے میں اپنے اپنے موقف کی وجہ سے انہیں’سپریم لیڈر کا وفادار سپاہی‘ بھی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے غیر ملکی جماعتوں اور ایران کی وفادار تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور حالیہ مہینوں میں وہ دن رات رابطہ کاری کے لیے سرگرم تھے۔ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پرحملے کے بعد عبداللہیان کو زیادہ متحرک ایرانی لیڈر کے طور پر دیکھا گیا۔

2021 میں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی افتتاحی تقریب کے دوران "مزاحمت کے محور" کے اجلاس کا منظر ایک بار پھر دہرایا گیا، لیکن اس بار جنازے کی تقریب میں یہ منظر تھا۔ ایرانی دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب کی قیادت کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں "مزاحمت کے محور " کی اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں حماس، اسلامی جہاد، لبنانی حزب اللہ اور حوثیوں کےلیڈر شامل تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ملاقات پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی، قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی اور حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل نے شرکت کی۔

اس ملاقات سے کیا پیغام گیا؟۔ غالباً مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ ’’مزاحمتی محورِ‘‘ کا معاہدہ نہیں ٹوٹا ہے اور ابراہیم رئیسی اور امیر حسین عبداللہیان کی عدم موجودگی اگرچہ ایک بہت بڑا نقصان ہے اس کے باوجود ’’محور‘‘ مستحکم ہے اورایران کے ساتھ ان کی ہم آہنگی برقرارہے۔ چونکہ یہ بین الاقوامی اتحاد ملیشیا اور ہتھیاروں کے تعاون پر مبنی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی عہدیدار موجود ہو یا نہ ہو۔

اس ایرانی پالیسی جس کی بنیاد "مزاحمت کے محور" کی حمایت اور اس میں سرمایہ کاری ہے، کی تصدیق ایگزیکٹو اتھارٹی کے عبوری صدر محمد مخبر نے کی۔ انہوں نے"اسلامی جہاد موومنٹ" کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے کہا کہ "ایران کی بنیادی حکمت عملی مزاحمتی تحریک کی حمایت کرنا ہے، خاص طور پر دھڑوں کی حمایت کرنا۔ اگر لوگ بدل گئے تو فلسطینی مزاحمت نہیں بدلے گی"۔ انہوں نے کہا کہ "آپریشن صادق الوعد ‘‘مزاحمت کے نتائج میں سے ایک ہے"۔

صدر ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ کے موقع پر ’’مزاحمتی محور‘‘ کے اجلاس میں واپسی کے حوالے سےایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بتا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی مکمل فتح تک جہاد اور جدوجہد جاری رہے گی۔ایران غزہ میں مزاحمتی قوتوں کی مدد جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے نئے عبوری صدر اور "سیاسی اور سماجی صورتحال میں پیشرفت اور غزہ میں فوج اور موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا"۔

فلسطینی، لبنانی، عراقی اور یمنی دھڑوں کے درمیان یہ ہم آہنگی جاری رہے گی، کیونکہ اس سے ان کے اور ایران کے لیے ایک ہی وقت میں مشترکہ مفاد حاصل ہوتے ہیں۔ ایرانی صدر کی موت کی وجہ سے اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں