رفح کراسنگ کھولنے کی بین الاقوامی تحریک کمزور پڑ رہی ہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک طرف امریکہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک غزہ کی رفح لینڈ کراسنگ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایسے لگتا ہے کہ سات مئی کو اسرائیلی فورسز کی جانب قبضے میں لی گئی کراسنگ کے بارے میں اسرائیل کراسنگ فعال کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔

باخبر ذرائع نے آج منگل کوانکشاف کیا کہ کراسنگ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی تحریک بنیادی طور پر کریم شلوم اور رفح کراسنگ اور اس کے علاوہ پہلے سے موجود دیگر کراسنگ جو حال ہی میں شمالی غزہ میں کھولی گئی ہیں کو اس وقت اسرائیلی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ذرائع نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "اسرائیل نے رفح کراسنگ پر فلسطینی اتھارٹی کے مشن کی واپسی کو مسترد کر دیا۔ فلسطینی اتھارٹی یہ کردار 2007ء میں حماس کے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے ادا کر رہی تھی۔ اس وقت یورپی یونین کا مشن بھی فلسطینی اتھارٹی کی مدد کر رہا تھا۔

کراسنگ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیں

جبکہ ایک ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی عزم رفح کراسنگ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی بھی صورت میں کراسنگ پر کسی بھی سرکاری فلسطینی کی موجودگی وہاں اسرائیلی ٹینکوں کی موجودگی کو قبول نہیں کرے گی‘‘۔

اس سے قبل ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ رفح کراسنگ کے آپریشن سے متعلق کئی تجاویزسامنے آئی تھیں جن میں سے کسی پر بھی اب تک اتفاق نہیں ہوسکا ہے، تاہم فلسطینیوں اور مصر نے کراسنگ اور اس کے اطراف سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ کراسنگ کا کنٹرول سنبھالنے کا معاہدہ 2017ء کے آخر میں رفح کراسنگ کو ٹیک اوور کرنے والی جنرل اتھارٹی فار بارڈرز اینڈ کراسنگ جیسا ہی ہو گا جب فلسطینی اتھارٹی کے وہاں کام کرنے کے لیے واپسی پر حماس کے ساتھ مصالحتی معاہدے کے دوران کیا گیا تھا۔

مصری جانب سے رفح کراسنگ پر خوراک کا ایک ٹرک (آرکائیوز - رائٹرز)
مصری جانب سے رفح کراسنگ پر خوراک کا ایک ٹرک (آرکائیوز - رائٹرز)

امریکی - مصری معاہدہ

اس کے علاوہ انہوں نے عندیہ دیا کہ اتھارٹی جس کی نمائندگی اس کے ملازمین کریں گے ابتدائی طور پر کریم شالوم کراسنگ کے فلسطینی حصے میں واپس آئے گی تاکہ امریکہ- مصر- فلسطینی معاہدے کے تحت غزہ میں امدادی ٹرکوں کی منتقلی کا عمل جاری رکھا جا سکے، جبکہ رفح کراسنگ کو کھولنے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

تاہم ذرائع نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کو افراد کی نقل و حرکت کے لیے رفح کراسنگ کے آپریشن سے جوڑدیا۔ مذکورہ معاہدے کے مطابق سامان کی منتقلی کے صلاح الدین گیٹ کو "عارضی طور پر کریم شالوم میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ بحث ان کراسنگ کے بارے میں ہے جس کا انتظام فلسطینیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس میں مصری فلسطینی معاہدے کے ساتھ تیسرے فریق کا امکان ہے، جو کہ ایک مبصر کے طور پر موجود ہو۔

کل پیر کو یورپی یونین نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی کو مصری سرزمین سے الگ کرنے والی رفح کراسنگ پر مبصرکے طور پر اپنے کردار کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سنہ 2005ء سے قبل یورپی یونین کا مشن ایک مبصر کے طور پر رفح کراسنگ پر موجود رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے اہلکار جوزپ بوریل نے کہا کہ انہیں رفح کراسنگ پر یورپی مانیٹرنگ مشن کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے مرکزی وزراء کی جانب سے گرین سگنل ملا ہے۔

کراسنگ کا معاہدہ

قابل ذکر ہے کہ 2005ء کا کراسنگ ایگریمنٹ جسے "حرکت اور رسائی کا معاہدہ" بھی کہا جاتا ہے 15 نومبر 2005ء کو اسرائیل اور فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے درمیان امریکہ اور یورپی یونین کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اگست 2005ء میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء کے بعد بھی مصری مبصرین کراسنگ پر موجود رہے۔

اس کا مقصد غزہ تک نقل و حرکت اور رسائی کو منظم کرنا اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت کی آزادی کو بہتر کرنا ، تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور فلسطینی معیشت کو ترقی دینا تھا۔

اس معاہدے میں کئی اہم دفعات بھی شامل ہیں، جن میں رفح کراسنگ فلسطینی-مصری انتظام کے تحت چلائے جانے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی نگرانی کی شرط شامل تھی۔ جب کی معاہدے کے نفاذ کے لیے امریکی ایلچی کی موجودگی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت کریم شالوم کراسنگ کو مغربی کنارے اور اسرائیل سے غزہ تک سامان کی نقل و حمل کے لیے اور غزہ سے سامان کے اخراج کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں