جرمنی میں چاقو زنی کے واقعے کے بعد افغانوں کی ملک بدری کا معاملہ زیر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر کا کہنا ہے کہ جرمنی مجرموں کی افغانستان واپسی دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔

سنہ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے افغان تارکین وطن کو افغانستان بھیجنا بند کردیا تھا کیونکہ وہ لوگوں کو ان ممالک میں دوبارہ واپس نہیں بھیجتا جہاں انہیں موت کا خطرہ ہو۔

لیکن ایک افغان پناہ گزین پر گذشتہ جمعے کو من ہائم میں ایک پولیس افسر پر اقو مارنے کا الزام عائد ہونے کے بعد حکام اب اس پالیسی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔

وزیر داخلہ نینسی فیزر نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ، "میرے لیے یہ بالکل واضح ہے کہ جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طورپر ملک بدر کیا جانا چاہئے۔"

انہوں نے مزید کہا"میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کی سلامتی کے مفادات واضح طورپر متاثرہ افراد کے مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔"

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ " اسی لیے ہم مجرموں اور خطرناک لوگوں کو شام اور افغانستان دونوں میں ہی ڈی پورٹ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔"

غیر محفوظ سمجھے جانے والے ممالک کے پناہ کے متلاشیوں کو ملک بدر کرنے کے متعلق ہونے والی بحث یورپی یونین کے انتخابات سے کچھ دن قبل ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔ ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے بہتر کارکردگی کی توقع کی جارہی ہے۔

جمعے کے روز مین ہائم میں ایک اسلام مخالف ریلی کے دوران ایک پولیس افسر کو چاقو مارنے کا مہلک واقعہ پیش آیا تھا۔

میڈیا نے بعد میں مشتبہ شخص کی شناخت 25 سالہ شخص کے طورپر ہوئی جو مارچ 2013 میں سیاسی پناہ کے متلاشی کے طورپر جرمنی پہنچا تھا۔

جرمن اخبار بلڈ کے مطابق اگر چہ ابتدائی طور پر اسے پناہ دینے سے انکار کردیا گیا تھا لیکن اسے ملک بدر نہیں کیا گیا کیونکہ اس وقت اس کی عمر 14 سال تھی۔

جرمن اخبار اسپیگل کے مطابق مشتبہ شخص نے بعد میں ایک اسکول میں داخلہ لیا اور سنہ 2019میں ایک ترک نژاد جرمن خاتون سے شادی کی، جس سے اس کے دو بچے ہیں۔

حکام نے مشتبہ شخص کو کبھی بھی ممکنہ خطرے کے طورپر نہیں دیکھا اور اس کے پڑوسیوں کا بھی کہنا تھا وہ انتہاپسندانہ خیالات کا حامل دکھائی نہیں دیتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں