غزہ جنگ بندی کی اقوامِ متحدہ کی قرارداد پر روس اور چین کی امریکہ سے دیرینہ مخاصمت

جو بائیڈن کے وضع کردہ تین مراحل پر مشتمل منصوبے میں فریقین سے فوری و غیرمشروط جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیارات کے حامل روس اور چین نے جمعرات کو امریکی مسودہ قرارداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے صدر جو بائیڈن کی وضع کردہ تجویز کی حمایت کی جائے گی۔

سفارت کاروں نے بتایا کہ کونسل کے واحد عرب رکن الجزائر نے بھی اشارہ دیا کہ وہ متن کی حمایت کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایک قرارداد کے حق میں کم از کم نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور منظوری کے لیے امریکہ، فرانس، برطانیہ، چین یا روس کی طرف سے ویٹو نہیں ہونا چاہیے۔

بائیڈن نے ایک ہفتہ قبل غزہ کی پٹی کے لیے تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی منصوبہ پیش کیا تھا جسے انھوں نے اسرائیلی اقدام قرار دیا۔

امریکہ اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کر رہا ہے جس کا حماس بدستور مطالعہ کر رہی ہے۔ اس نے پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں ایک صفحے کا مسودہ اور بدھ کو اس کا ایک نظرِثانی شدہ نمونہ پیش کیا۔ دونوں مسودات رائٹرز نے ملاحظہ کیے۔

موجودہ مسودہ جنگ بندی کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے، اسے اسرائیل کے لیے "قابلِ قبول" قرار دیتا ہے، "حماس سے بھی اسے قبول کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ بلاتاخیر اور بلاشرط اس تجویز کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کریں۔"

اس میں تجویز کی کچھ تفصیلات درج ہیں - پہلے مرحلے کے حصے کے طور پر غزہ کی پٹی میں "پوری اور مکمل جنگ بندی" اور دوسرے مرحلے میں "فریقین کے متفق ہونے پر دشمنی کا مستقل خاتمہ"۔

سفارت کاروں نے کہا، لیکن کونسل کے کچھ ارکان نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا اسرائیل نے واقعی اس منصوبے کو قبول کر لیا ہے اور کیا وہ چاہتا ہے کہ کونسل مارچ میں کیے گئے فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کے مطالبے پر قائم رہے۔

روس نے رائٹرز کے ملاحظہ کردہ امریکی متن میں ترامیم کی تجویز پیش کی جس میں حماس اور اسرائیل دونوں سے اس تجویز کو قبول کرنے کا کہا گیا اور تمام فریقوں سے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ماسکو مسودے میں اس بات پر بھی زور چاہتا ہے کہ جب تک دوسرے مرحلے پر بات چیت جاری رہے، پہلے مرحلے کی جنگ بندی برقرار رہے گی۔ اور یہ بات بائیڈن کے گذشتہ ہفتے کے تبصروں کی عکاسی کرتی ہے۔

کئی مہینوں سے امریکہ، مصر اور قطر کے مذاکرات کار جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ کا مستقل خاتمہ اور 23 لاکھ لوگوں کے انکلیو سے اسرائیلی انخلاء چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں