غزہ جنگ کے باعث مستعفی امریکی ملازمین بائیڈن پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں 8 ماہ سے جاری خونریز اسرائیلی جنگ کے بعد موجودہ صدر جو بائیڈن کی پالیسی کے خلاف تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری محکموں بالخصوص وزارت خارجہ میں بہت سے ملازمین مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اب ایسا لگنے لگا ہے کہ ان مستعفی ہونے والے ملازمین نے واشنگٹن پر پالیسی تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنے کے لیے متحرک ہونا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ مہینوں میں عوامی طور پر مستعفی ہونے والے امریکی اہلکاروں کے ایک گروپ نے حکومت پر اپنا راستہ بدلنے کا دباؤ ڈالنے کے لیے آپس میں تعاون کرنا شروع کر دیا۔ سی این این کے مطابق جوش پال، ہیریسن مان، طارق حبش، انیل شیلن، ہالا ہیریٹ، للی گرین برگ کول، الیکس سمتھ، اور سٹیسی گلبرٹ سمیت ان مستعفی ملازمین نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ان کے خیالات اور خدشات کو نظر انداز کیا اور ان پر توجہ نہیں دی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اس کی پالیسی نے ملک کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بہت سے ساتھی ہیں جو اب بھی حکومت کے اندر کام کر رہے ہیں، لیکن ان کا موقف حکومت کے خلاف ہی ہے۔ مستعفی ملازمین کے گروپ نے وضاحت کی کہ چاہے انہوں نے بعد میں استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا یا اندر ہی اندر سے مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ان لوگوں کی حمایت کرنے نے ہی ہمیں گروپ بنانے کی طرف راغب کیا تاکہ ہم مل کر انتظامیہ پر پالیسی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھا سکیں۔

واضح رہے جوش پال امریکی محکمہ خارجہ کے پہلے اہلکار تھے جنہوں نے غزہ کی جنگ اور بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی گئی غیر مشروط حمایت کے دوران استعفی دیا۔ امریکی صدر نے اسرائیلی افواج کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی لگانے یا ان کے استعمال کے لیے شرائط طے کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر بھی زور دیا کہ لڑائی کو روکنا میز پر نہیں ہے۔ انہوں نے حماس تحریک کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں