بھارتی معاشرے میں ایک ایسی روایت بھی موجود ہے جس میں دمہ کی بیماری سے بچنے کے لیے مریضوں اور بچوں کو زندہ مچھلی نگلنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
ہر موسم گرما میں ایک ایسے دن جسے علم نجوم کے حساب سے مبارک سمجھا جاتا ہے دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا لوگ ایک چھوٹی زندہ مچھلی کو نگلنے کے لیے جنوبی ہندوستان کے شہر حیدر آباد آتے ہیں۔ جہاں وہ زندہ مچھلی جس کا منہ ایک خفیہ جڑی بوٹیوں بھرا ہوتا نگلنا ہوتی ہے۔
ایک قدیم افسانہ
روایت ہے کہ 1845 میں ایک جوگی نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں رہنے والے ویرانا گوڈ جو ایک مقامی شخص تھا، کو "معجزاتی جڑی بوٹیوں" کا ایک خفیہ فارمولا پیش کیا اور اسے دمہ کے مریضوں کو مفت دینے کی ہدایت کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس کے بعد سے گوڈ کی اولاد جسے بیتھنی خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے نے اس روایت کو برقرار رکھا اور جڑی بوٹیوں کے فارمولے کو خفیہ رکھا۔ اسے صرف مرد اولادوں میں منتقل کرتے رہے۔
کاکارنا الکاننڈا نے بتایا کہ یہ فارمولا ان میرے پردادا ویرانا گوڈ نے حاصل کیا جس کے بعد یہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔
مچھلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گلے تک سفر کرتی ہے اور بلغم یا گھٹن کو دور کرتی ہے۔
اپنی فیملی کے ساتھ ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی سے ٹرین کے ذریعے 20 گھنٹے سے زیادہ کا سفر کرنے والے آش محمد نے کہا کہ "میری والدہ 7 سال سے یہ علاج کروا رہی ہیں۔ اس سے انہیں کافی سکون ملا ہے۔ان کی سانس میں رکاوٹ کم ہوگئی ہے‘‘۔
"پرسادام" یا "عطیہ"
باتھینی قبیلہ اس علاج کو "پرسادام" کہتا ہے، جس کا ترجمہ "تحفہ" کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک مقامی تنظیم نے توہم پرستانہ عقائد کو ختم کرنے کے لیےایک مقدمہ جیتنے کے بعد اسے ’دوائی‘ کہنے پر پابندی لگوا دی تھی۔
ماہرین اس متھ کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب دیومالائی کہانیاں ہیں جن کے پیچھے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بعض اس طریقہ علاج کو غیر صحت بخش بھی قرار دیتے ہیں۔
لوگ سائٹ پر موجود سرکاری فشریز ڈپارٹمنٹ کے کھوکھے سے اپنی مچھلی خریدتے ہیں۔ اگرچہ علاج مفت ہے لیکن ہر مچھلی کی قیمت 40 روپے یا تقریباً 50 سینٹ ہے۔
زندہ مچھلیوں کو پانی سے بھرے پلاسٹک کے تھیلے میں جمع کرنے کے بعد ہر شخص اسے بیتھنی فیملی کے ساتھ کام کرنے والے ایک ملازم کو دیتا ہے، جو مچھلی کے منہ میں پیلے رنگ کے جڑی بوٹیوں کا پیسٹ نچوڑتا ہے اور اسے نگلنے میں مدد کرتا ہے۔
منتظمین کے مطابق اس سال ہزاروں ’پرسادام‘ استعمال کیے گئے۔
مقامی حکومت سکیورٹی اور صحت کے اقدامات کی نگرانی کرتے ہوئے اس جگہ کے لیے عارضی ڈھانچہ تیار کر رہی ہے۔