برطانیہ میں آئندہ بدھ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں لیبر پارٹی کی جیت یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے ایک اہم وعدے "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا" اس پر عمل درآمد مؤخر کر دیں گے۔ اسٹارمر کو اندیشہ ہے کہ وعدے پر عمل کرنے سے امریکا کے ساتھ برطانیہ کا خصوصی تعلق خراب ہو جائے گا۔ یہ بات آج جمعے کے روز برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کی ایک رپورٹ میں کہی گئی۔
کیئر اسٹارمر کی اہلیہ یہودی ہیں اور وہ ان کے دو بیٹوں کی ماں بھی ہیں۔ اسٹارمر نے غزہ میں جنگ روکنے کی مہم اور امن عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی مہم کے دوران میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لینے کا وعدہ کیا تھا۔ پارٹی میں اسٹارمر کے حلیفوں کا موقف ہے کہ انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے میں جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے برطانیہ اپنے مرکزی حلیفوں سے الگ ہو جائے گا اور امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ابتدا میں ہی فاصلہ پیدا ہو جائے گا۔ لہذا دانش مندی یہ ہے کہ دیگر مغربی ممالک سے رابطہ کاری کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔
ادھر برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نےJewish News اخبار کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ اسٹارمر نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا عندیہ دے کر اسرائیل کے ساتھ نہایت غیر مناسب رویے کا اظہار کیا ہے۔ رشی کا کہنا تھا کہ " میں اور وزیر خارجہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ درست طریقہ نہیں ہے جب کہ اسرائیل محفوظ نہیں ہے"۔
رواں ہفتے مختلف سروے رپورٹوں کے مطابق کیئر اسٹارمر کی قیادت میں لیبر پارٹی کے لیے یہودیوں کی حمایت میں 46% اضافہ ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ لیبر پارٹی مسلمان ووٹروں کی سپورٹ سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ گذشتہ برس اسٹارمر نے برطانوی چینلLBC کو دیے گئے انٹرویو میں ایسا ظاہر کیا تھا کہ گویا وہ غزہ پٹی کے لیے پانی اور غذائی مواد کی فراہمی منقطع کرنے کا جواز کا حامل سمجھتے ہیں۔ اس موقف نے برطانیہ کے مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔