مصرکے ایک مشہور باکسنگ کوچ کے خواتین کھلاڑیوں کے جسم سے چھیڑ چھاڑ اور انہیں ہراساں کرنے کے کیس ان کے وکیل کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔
باکسنگ کوچ کے وکیل ایڈووکیٹ مصطفیٰ مجدی نے کہا کہ ’باکسنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کوچ اور ٹرینیز کا ایک دوسرے کو چھونا فطری طور پر شامل ہے۔ اس کھیل کی نوعیت ہی ایسی ہے‘۔
لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے کوچ کے وکیل نے اپنے مؤکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا اس واقعے میں ایسے حالات تھے، خاص طور پر چونکہ لڑکیاں دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے کوچ سےتربیت لے رہی تھیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گیم کی نوعیت ٹریننگ کے دوران چھونا ہے۔ ٹریننگ کرنے والی تمام لڑکیاں گیم کی تفصیلات اور چھونے کی نوعیت کو سمجھتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جو گیم کی نوعیت کو بیان کرتی ہیں۔
ہر جگہ کیمرے نصب
وکیل نے ٹریننگ کے دوران لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے اپنے مؤکل پر الزام کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ "پوری جگہ پر نگرانی کے لیے کیمرے لگے ہوئے ہیں، وہاں ایک میٹرجگہ بھی ایسی نہیں جس میں کیمرے نصب نہ ہوں۔ یہ جگہ دوسرے لوگوں سے بھری ہوگی، خواتین اور مرد دونوں ٹرینیز وہاں موجود ہوں گے۔ ایسے میں کوئی کوچ لڑکیوں کو کیسے ہراساں کرسکتا ہے؟‘‘۔
کوچ پر 13 سے 18 سال کی نوجوان لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ کوچ کی طرف سے لڑکیوں کو ٹریننگ کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں بات دھمکیاں دی تھیں۔
’تکلمی‘ اقدام کے مطابق کوچ نے لڑکیوں کو باور کرایا کہ وہ اس غلطی میں برابر کی قصور وار ہوسکتی ہیں۔
دریں اثنا مجاز تفتیشی حکام نے کوچ کو 15 دن کے لیے کیس کی تحقیقات کے دوران جیل میں ڈالنے کا حکم دیا ہے۔