شمالی کوریا کی ٹی وی ٹرانسمیشن کی چینی سے روسی سیٹلائٹ پر منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی کوریا کی اتحاد سازی کی وزارت نے پیر کو کہا کہ شمالی کوریا نے سرکاری ٹی وی کی نشریات کو چینی سے روسی سیٹلائٹ پر منتقل کر دیا ہے۔ اس طرح جنوبی کوریا کی سرکاری ایجنسیوں اور میڈیا کے لیے ان نشریات کی نگرانی ایک چیلنج بن گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے سیٹلائٹ ڈش سروس کے فراہم کنندہ نے رائٹرز کو بتایا کہ 29 جون سے شمالی کوریا کے کورین سنٹرل ٹیلی ویژن کے سگنل چین سیٹ 12 سیٹلائٹ کے بجائے روسی سیٹلائٹ ایکسپریس 103 کے ذریعے جا رہے تھے۔

فراہم کنندہ نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

سیٹلائٹ میں تبدیلی روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے جون میں شمالی کوریا کے دورے کے بعد کی گئی ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی اور باہمی دفاعی عہد سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اگرچہ شمالی کوریا کا ٹی وی آن لائن دیکھنا ممکن ہے لیکن اس کے معیار میں تاخیر یا یہ کم معیاری ہو سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کی سرکاری ایجنسیاں اور میڈیا شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی ایک محدود ذریعہ کے طور پر نگرانی کرتے ہیں تاکہ ریاست کے اندر کی معلومات مل سکیں باوجود یہ کہ اس کا مواد انتہائی سیاسی ہوتا ہے۔

وزارتِ اتحاد سازی کے ایک اہلکار نے کہا، "شمالی کوریا نے موجودہ چینی سیٹلائٹ کا استعمال بند کر دیا اور روسی سیٹلائٹ کے ذریعے نشریات کی ترسیل شروع کر دی ہے اور ہماری طرف کچھ علاقوں میں سیٹلائٹ نشریات کی وصولی محدود کی جا رہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، وزارت تکنیکی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جنوبی کوریا میں مجاز اداروں کو شمالی کوریا کی نشریات دیکھنے کے لیے سیٹلائٹ سروس تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے اور عام لوگوں پر شمالی کوریا کے میڈیا تک رسائی پر پابندی ہے۔

رائٹرز پیر کی صبح سے شمالی کوریا کے ٹی وی سگنل وصول کرنے سے قاصر ہے۔

اگرچہ روس اور شمالی کوریا نے ڈرامائی اقدامات کیے ہیں جن سے ان کے گہرے تعلقات ظاہر ہوتے ہیں اور امریکہ کی قیادت میں مغرب کے خلاف مزاحمت کرنے کا عزم کیا ہے لیکن چین نے کسی بھی سہ فریقی انتظام سے گریز کیا ہے جس سے دوسرے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پیچیدہ ہونے کا امکان ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں