صدر ولادیمیر پوتین نے جمعے کے روز کہا کہ روس مختصر اور درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے جوہری صلاحیت کے حامل زمینی میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کر دے گا جس کی وجہ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے یورپ اور ایشیا دونوں میں ان کی تعیناتی کا اقدام تھا۔
امریکہ نے 2019 میں روس کے ساتھ 1987 میں درمیانے فاصلے کی جوہری طاقتوں (آئی این ایف) کے تاریخی معاہدے سے یہ کہہ کر باضابطہ دستبرداری اختیار کر لی تھی کہ ماسکو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا تھا جبکہ کریملن نے اس الزام کی تردید کی۔
اس کے بعد روس نے اپنے میزائلوں کی تیاری ملتوی کر دی جن پر پہلے آئی این ایف معاہدے کے تحت پابندی تھی۔
پوتین نے روس کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ بات معلوم ہے کہ امریکہ نہ صرف یہ میزائل سسٹم تیار کرتا ہے بلکہ ڈنمارک میں مشقوں کے لیے انہیں پہلے ہی یورپ لا چکا ہے۔"
نیز انہوں نے کہا، "حال ہی میں اعلان کیا گیا کہ وہ فلپائن میں ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ وہاں سے میزائل لے گئے یا نہیں۔"
پوتین نے کہا کہ اس طرح روس کو جواب دینے پر مجبور کیا گیا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ "بظاہر ہمیں ان حملہ آور میزائلوں کی تیاری شروع کرنے اور پھر اصل صورت حال کی بنیاد پر اس بارے میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے کہ
اگر ہماری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہو تو انھیں کہاں رکھا جائے۔"
-
بحیرہ اسود پر امریکہ کی اشتعال انگیزیوں کا جواب دینگے: روس
یوکرینی حملے سے ایندھن کے گودام میں آتشزدگی، روس کا برائنسک صوبے میں 6 یوکرینی ...
بين الاقوامى -
روس کے بعد امریکہ نے اپنے شہریوں کو لبنان کے سفر سے روک دیا
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بیروت میں امریکی سفارت خانے نے ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی طرز عمل تباہ کن نقصانات کا باعث ہے: روس
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نےزور دے کر کہا ہے کہ ماسکو اس بات کو یقینی بنانے میں ...
بين الاقوامى