سابق برطانوی وزیرِ اعظم لز ٹرس جمعے کو ہونے والے انتخابات میں اپنی پارلیمانی نشست ہار گئیں۔ وہ ملک کی اب تک کی مختصر ترین مدت کی رہنما بن گئیں جن کے دورِ حکوت میں بانڈ مارکیٹ میں مندی اور پاؤنڈ سٹرلنگ میں تباہی آئی۔
ٹرس نے مشرقی انگلینڈ میں اپنے جنوبی مغربی نورفوک حلقے میں 11,217 ووٹ جبکہ لیبر پارٹی کے امیدوار ٹیری جرمی کے لیے 11,847 ووٹ حاصل کیے۔
بورس جانسن کی سکینڈل سے متأثرہ وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کے بعد عہدہ سنبھالنے والی 48 سالہ ٹرس صرف 44 دنوں بعد استعفیٰ کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئیں جب ان کی غیر فنڈ شدہ ٹیکس کٹوتیوں نے مالیاتی مارکیٹ میں ہنگامہ برپا کر دیا جس سے گھر کے مالکان کے لیے گروی کی قیمت میں اضافہ ہوا جو پہلے ہی روزمرہ زندگی کے اخراجات کے بحران کا شکار تھے۔
میڈیا میں طنز و تشنیع کا نشانہ بننے والی ٹرس کا نام کئی رائے دہندگان کے نزدیک کنزرویٹو حکومت کی افراتفری اور ناکامیوں کا مترادف بن گیا تھا۔
سنسنی خیز خبروں کے ایک اخبار نے ان کی وزارتِ عظمیٰ کے آخری ایام میں پوچھا کہ کیا ان کی حکومت بازار کے سلاد کے پتوں سے زیادہ دیر تک رہ سکے گی۔
البتہ وہ پارٹی میں اب بھی دائیں بازو کے قانون سازوں میں ایک بااثر آواز ہیں۔