بنگلہ دیش:احتجاجی مظاہرین کا مرکزی بنک کےچار ڈپٹی گورنرز کے استعفے کا بھی مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بنگلہ دیش کے مرکزی بنک کے چار ڈپٹی گورنرز کے جبری استعفوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مرکزی بنک کے مختلف ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ احتجاجی طلبہ کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ چار ڈپٹی گورنرز کو ان کے کرپشن کے الزمات کی وجہ سے الگ کیا جائے اور استعفیٰ لیا جائے۔

اس سے پہلے احتجاج کرنے والے بنگالی مرکزی بنک کے گورنر عبدالرؤف کے استعفے کا بھی مطالبہ کر چکے ہیں۔ عبدالرؤف مظاہرین کی آمد پر مرکزی بنک کے ہیڈکواٹرز میں موجود نہیں تھے۔ یہ بات بنک کےذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔

بعد ازاں مرکزی بنک کے گورنر عبدالرؤف اور ان کے ترجمان سے بھی اس سلسلے میں رابطے کی کوشش کی گئی ۔ مگر انہوں نے اس معاملے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

خیال رہے مظاہرین مرکزی بنک کے عہدےداروں کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے دو دن بعد مرکزی بنک کے ہیڈکوارٹر پہنچے تھے۔ مظاہرین نے بنک کے اردگرد زبردست احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔

واضح رہے بنگلہ دیش میں طلبہ کی یہ احتجاجی تحریک میرٹ پر ملازمتیں دینے کے نظام کی بحالی پر شروع ہوئی تھی۔ مگر بعد ازاں مظاہرین کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی حسینہ واجد کی پالیسی کے باعث سینکڑوں لوگوں کی ہلاکتوں نے اس مظاہرے کو سول نافرمانی کی تحریک میں بدل دیا اور بالآخر یہ حکومتی خاتمے کی تحریک بن گئی۔

جس کے نتیجے میں 5 اگست کو بھارت کو اس وقت ایک بہت بڑے اور حیران کن صدمے سے گزرنا پڑا جب اچانک بنگلہ دیشی وزیراعظم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر بھارت میں فوری سیاسی پناہ کی درخواست کی۔

بنگلہ دیش کے مرکزی بنک کے ڈپٹی گورنر نور النھر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو جاری رکھیں گے اور روزمرہ کے امور کو اس وقت تک دیکھیں گے جب تک نئے ڈپٹی گورنرز مقرر نہیں ہوجاتے۔

بنک کے ذریعے نے بتایا اس صورتحال کے باوجود بنک کے بہت سے افسران اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

بنک کے ایک اور افسر نے کہا 'میں خود بھی اپنی پوزیشن پر موجود ہوں اور اپنا کام کر رہا ہوں اور احتجاجی کارکنوں اور طلبہ کے مطالبات کا حامی ہوں اور ان کی حمایت کرتا ہوں۔ تاہم میں نے احتجاجی جلوس میں حصہ نہیں لیا۔'

خیال رہے مرکزی بنگ کے دو ڈپٹی گورنرز بدھ کے روز بنک میں موجود نہیں تھے۔ کیونکہ انہیں اس سے پہلے فون پر یہ پہیغام دیا جا چکا تھا کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

بنک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی بنک کے فنانشل انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے اور بنگلہ دیش کی فوج نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انہیں بنک سے جانے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے گا اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

مرکزی بنک نے اپنی مالیاتی پالیسی کا اعلان برائے پہلی ششماہی پچھلے ماہ جولائی میں کیا تھا۔ یہ پالیسی 2024 اور 2025 کے لیے جاری ہے۔ جبکہ اگلی پالیسی کی توقع جنوری 2025 میں کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں