ایرانی صدر: پرانے جوہری پروگرام سربراہ کو پابندیوں کے باوجود دوبارہ مقرر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے نئے منتخب صدر مسعود پز شکیان نے ایک بار پھر امریکہ سے تعلیم یافتہ شخص کو اس کے باوجود جوہری پروگرام کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ 67 سالہ محمد اسلامی پر اقوام متحدہ کی طرف سے 16 سال پہلے پابندیاں لگا دی تھیں۔

یہ خبر ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے ہفتے کے روز دی ہے۔ ٹی وی کے مطابق محمد اسلامی جوہری پروگرام کے سویلین سربراہ رہے ہیں۔ وہ نائب صدور میں سے ایک ہیں۔

ان پر ایک عرصے تک پابندیاں رہیں ، مگر 2015 میں جب ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا معاہدہ ہوا تو یہ پابندیاں ختم ہو گئی تھیں۔

نو منتخب صدرپزشکیان جنہوں نے محض دو ہفتے سے بھی کم دن پہلے صدارتی حلف اٹھایا ہے، انہوں نے اپنی صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران کہا تھا' کہ وہ صدر بن گئے تو جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔'

اقوام متحدہ نے محمد اسلامی پر 2008 میں اس وقت پابندیاں لگائی تھیں جب وہ ایرانی جوہری پروگرام کے ساتھ براہ راست جڑے ہوئے تھے اور ایرانی ضرورت کے لیے پرولیفریشن کے لیے کام کر رہے تھے۔ محمد اسلامی اس وقت ایران کی دفاعی صنعت میں تربیت و تحقیق کے لیے قائم ادارے کے سربراہ تھے۔

انہیں ایرانی جوہری پروگرام کا سربراہ 2021 میں مقرر کیا گیا تھا، اس وقت ابراہیم رئیسی ملک کے صدر تھے۔ ان سے پہلے 2018 میں اعتدال پسندی کی شناخت رکھنے والے صدر روحانی تھے۔ محمد اسلامی صدر روحانی کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے وزیر تھے۔

فوجی صنعتوں میں کام کرنے کا بھی کئی برس کا تجربہ رکھتے ہیں۔ حالیہ دور میں وہ نائب وزیر دفاع بھی رہ چکے ہیں۔ اس دوران انہیں فوجی صنعت کے میدان میں تحقیقات کے میدان کی نگرانی کرنا تھی۔ اسلامی امریکی یونیورسٹی آف ٹولیڈو اوہائیو اور یونیورسٹی آف مشی گن سے سول انجینیئرنگ کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں