روسی صدر کا محمود عباس سے ملاقات میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماسکو کے دورے پر آئے فلسطینی اتھارٹی کےسربراہ محمود عباس سے غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے پراپنی گہری "تشویش" کا اظہار کیا۔

روسی ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پوتین نے کہا کہ "ہمیں شہری ہلاکتوں پر سب سے زیادہ تشویش ہے۔ ہم فلسطین اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے"۔

پوتین نے زور دیا کہ ماسکو یوکرین کی جنگ میں مصروفیت کے باوجود فلسطین میں پیش رفت میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بدقسمتی سے آج روس کو اپنے مفادات کا دفاع کرنا چاہیے اور ہتھیاروں سے اپنے عوام کا دفاع کرنا چاہیے، لیکن جو کچھ مشرق وسطیٰ میں ہو رہا ہے اور یقیناً فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی ہماری توجہ اوردلچسپی کے دائرے میں ہے‘‘۔

اس موقعے پر محمود عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے کبھی بھی مسئلہ فلسطین کو حل نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1947ء سے لے کر اب تک اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین پر جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں ایک ہزار سے زائد قراردادیں منظور کی ہیں لیکن امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے وہ بالآخر اپنے مشن میں ناکام رہی اور ان قراردوں جن میں فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی گئی ہے پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے زبردستی بے گھر کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔ اتھارٹی غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور یروشلم سے فلسطینیوں کو جبری بے گھر کرنے کی اسرائیل کی مسلسل پالیسی کو بھی مسترد کرتی ہے۔ صدر عباس نے کہا کہ اسرائیل اس حکمت عملی کو پہلے بھی کئی بار نافذ کر چکا ہے۔ پہلی بار بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے جبرا 1948ء میں بے دخل کیا گیا اور اس کے بعد وسیع پیمانے پر 1967ء کی جنگ اور اس کے بعد فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں