ترک پولیس نے ملک کے شمال مغرب میں سکائی شھیر میں چاقو کے حملے سے پانچ افراد کو زخمی کرنے والے 18 سال کے نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ حملہ آور ہیلمیٹ پہنتا اور چہرے کو ماسک سے ڈھانپتا تھا۔ اس نے مسجد کے ایک باغ میں پانچ افراد کو چاقو کے وار کرکے زخمی کردیا۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔
ترکیہ کے میڈیا نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حملہ باغ میں کیا گیا اور اس کے قریب آتے ہی لوگوں نے بھاگنا شروع کردیا۔ ٹیلی ویژن چینل "نیوز آف ترک" نے اطلاع دی ہے کہ حملہ کرنے والے کی شناخت اردا کے نام سے ہوئی ہے۔
اناتولو ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ حملہ آور معلومات کے ذرائع کو واضح کیے بغیر جرم کا ارتکاب کرتے وقت ویڈیو گیمز کے زیر اثر تھا۔ متاثرہ افراد وہ لوگ تھے جو دارالحکومت انقرہ سے 230 کلومیٹر مغرب میں شہر ’’سکائی شھیر‘‘میں ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد آرام کر رہے تھے۔ حملہ آور کلہاڑی لے کر جاتا بھی دکھائی دیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے کلہاڑی کو استعمال نہیں کیا تھا۔ وزیر داخلہ علی یرلی کییا نے منگل کے روز بتایا کہ پولیس نے اس واقعے میں ملوث مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
متعدد ویب سائٹوں نے اشارہ کیا کہ اس کے سینے پر "سیاہ سورج" کی علامت دیکھی گئی۔ یہ نازی لوگو ہے۔ ڈیلی ریپبلکن اخبار کے مطابق حملہ آور نے کوئی نعرہ نہیں لگایا۔ اس نے اپنے اقدام کا کوئی مقصد بھی بیان نہیں کیا۔ بظاہر اس نے پر تشدد گیمز سے متاثر ہوکر اقدام کیا ہے۔