1917 کے دوران روسی سلطنت نے دو انقلابات کا تجربہ کیا۔ فروری کے انقلاب کے نتیجے میں زار اور اس کی حکومت کی رخصتی ہوئی۔ اکتوبر کے انقلاب جسے بالشویک انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے کے نتیجے میں بالشویکوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس کے علاوہ بالشویکوں نے جرمنوں کے ساتھ بریسٹ- لیٹوسک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد روس کو پہلی جنگ عظیم سے ہٹانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور اپنے سابق اتحادیوں کو بھی ناراض کیا۔ بالشویک انقلاب کی کامیابی کے ساتھ مل کر روس خانہ جنگی کی ہولناکیوں میں ڈوب گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔
جنگ عظیم اول کے بعد بالٹکس کی صورتحال
پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے صرف 17 دن بعد برطانیہ نے 28 نومبر 1918 کو آپریشن ریڈ ٹریک کے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ آپریشن ریڈ ٹریک روسی خانہ جنگی میں بالشویکوں کے خلاف اتحادیوں کی مداخلت کا حصہ تھا۔
جرمنی کی شکست اور بالٹک ریاستوں پر اس کے قبضے کے خاتمے کے ساتھ برطانوی بحریہ نے بالشوازم کے پھیلاؤ کو روکنےکے لیے ، نئے آزاد لٹویا اور ایسٹونیا دونوں کی حمایت کرتے ہوئے، خطے میں برطانوی مفادات کے تحفظ اور ضمانت کے لیے خطے میں اپنی فوجی مداخلت شروع کی۔
بالٹک ممالک میں اس وقت حالات کشیدہ تھے۔ بالشویک انقلاب کے بعد روسی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اس خطے کو آزادی کے حامیوں اور جرمن افواج کے درمیان تنازعہ کا سامنا کرنا پڑا۔ 1917 میں جرمنی نے ریگا شہر پر قبضہ کر لیا۔ عالمی تنازعات کے خاتمے کے باوجود متعدد جرمنوں اور ان کے حامیوں کے ہتھیار ڈالنے سے انکار کی وجہ سے خطے میں جنگی کارروائیاں جاری رہیں۔ دوسری طرف ایسٹونیا نے ایک قومی فوج بنائی اور اسے سوویت روسی ریڈ آرمی کی ساتویں فوج کے خلاف شدید لڑائی لڑنے پر مجبور کیا۔
برطانوی بحریہ کا انخلا
اس فوجی آپریشن کے ساتھ برطانیہ نے بالٹک ممالک کو اہم فائر سپورٹ فراہم کی۔ اس کے جہازوں نے ریڈ آرمی کی بہت سی پوزیشنوں پر بمباری کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ۔ ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی سپلائی لائنوں پر بھی حملہ کیا۔ بالٹک ممالک کی حمایت اور خطے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے برطانیہ نے تقریباً 18 بحری بارودی سرنگوں اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز کے علاوہ 20 آبدوزوں، تقریباً 80 جنگی جہازوں اور سمندری بارودی سرنگیں گرانے کے لیے نامزد 3 بحری جہازوں پر انحصار کیا۔
اپنے دفاع کے لیے بالشویکوں نے بالٹک فلیٹ کے کچھ بحری جہازوں پر انحصار کیا، جہاں ان کی افواج میں بنیادی طور پر 17 تباہ کن، دو جنگی جہاز، 7 آبدوزیں، اور 9 بحری بارودی سرنگیں شامل تھیں۔ 1918 اور 1919 کے موسم سرما میں برف کے پھیلنے کی وجہ سے اس علاقے میں برطانوی فوجی کارروائیاں بند ہو گئی تھیں۔ نتیجے کے طور پر برطانوی جنگی بحری جہاز اپریل 1919 میں خلیج فن لینڈ میں واپس آنے سے پہلے کوپن ہیگن کی طرف پیچھے ہٹ گئے تاکہ کرونسٹڈ اڈے پر روسی بیڑے کا محاصرہ کیا جا سکے۔
اگلے مہینوں کے دوران برطانوی بحریہ نے کئی مواقع پر کرونسٹڈ پر حملہ کیا تاکہ خطے کو کنٹرول کرنے اور روسی بالٹک بحری بیڑے کی باقیات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود بالشویکوں نے علاقے کا دفاع کیا اور زیادہ تر برطانوی حملوں کو پسپا کرنے میں کامیاب رہے۔
1919 کے موسم خزاں تک برطانوی بحری جہازوں نے اس وقت وائٹ آرمی کی مدد کے لیے مداخلت کی جب اس نے پیٹرو گراڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اسی دوران برطانوی بحری جہازوں نے سرخ فوج کے ٹھکانوں پر شدید بمباری شروع کی جس نے وائٹ آرمی کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے اپنی پوزیشنیں برقرار رکھیں۔
اس فوجی مداخلت کے دوران انگریزوں نے ایک آبدوز کے علاوہ اپنے تقریباً 20 جنگی بحری جہاز گنوا دیئے۔ اس کے 180 فوجی ہلاک یا زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب ریڈ آرمی نے ایک آبدوز کے علاوہ 10 جنگی جہاز کھو دیے۔ اس کے 600 سے زیادہ فوجیوں کو نقصان پہنچا۔
برطانیہ اپنے زیادہ تر اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ خطے میں برف کی واپسی کے ساتھ ہی برطانیہ نے اپنے جنگی بحری جہازوں کو واپس بلانے اور وائٹ آرمی کے پیٹرو گراڈ میں داخل ہونے میں ناکامی کے بعد فوجی آپریشن کو ختم کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ دوسری طرف بالشویکوں نے ایسٹونیا اور لٹویا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے ذریعے انہوں نے دونوں ممالک کی آزادی کو تسلیم کرلیا۔