ایران : زیر حراست ملزم کی ہلاکت پر شہری پولیس کا سربراہ برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پولیس فورس کے اعلیٰ حکام نے شمالی صوبے گیلان میں زیر حراست ایک ملزم کی ہلاکت کے بعد شہری پولیس کے سربراہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے یہ اطلاع ہفتے کے روز دی ہے۔

36 سالہ محمد میر موسوی کو پولیس نے 22 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ موسوی پر مبینہ طور پر لاہی جان میں لڑائی میں حصہ لینے کا الزام تھا۔ یہ بات پولیس ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے 'ارنا' نے بتائی ہے۔ لیکن وہ پولیس کی حراست کے دوران ہی ہلاک ہو گیا۔

اعلیٰ پولیس حکام نے اس سلسلے میں متعلقہ شہر کے پولیس سربراہ کو کوتاہی کا مرتکب قرار دیا کہ انہوں نے اپنے ماتحت عملے سے پیشہ وارانہ کنڈکٹ کو یقینی نہیں بنایا۔ جس کی وجہ سے 36 سالہ زیر حراست شہری اس حالت کو پہنچ گیا۔

پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں شہر کی پولیس کے سربراہ کے علاوہ بعض دیگر پولیس ذمہ داران بھی ملوث پائے گئے ہیں انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔

ایران کی عدالتی اتھارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے پولیس کے متعلقہ افسران کا اس معاملے میں رویہ پولیس کی پیشہ وارانہ پالیسی کے مطابق نہیں تھا۔ جو قابل قبول نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے پولیس کے ذمہ داران کو عدالتی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔

ناروے میں قائم کی گئی کردوں کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے جس کا نام 'ہینگا' ہے بدھ کے روز کہا تھا کہ موسوی کی موت پولیس کی زیر حراست بدترین تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

جمعرات کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس بارے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ یہ تحقیقات مکمل ہونے کے ساتھ ہی اعلیٰ پولیس حکام نے اس نامناسب واقعے میں ملوث افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کر دی ہے۔

واضح رہے ستمبر 2022 میں ایک 22 سالہ کرد لڑکی مہسہ امینی ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد حراست کے دوران ہی ہلاک ہو گئی تھی۔ جس پر ملک میں شدید ہنگامے شروع ہو گئے جو کئی ماہ جاری رہے اور اس میں سیکیورٹی حکام سمیت سینکڑوں لوگ ہلاک ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں