ایرانی پارلیمنٹ میں امن و خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر ان کے ملک کا رد عمل ناگزیر اور اٹل ہے۔
چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی بھی یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک لا محالہ اسرائیل کو جواب دے گا تاہم یہ اقدام سوچ سمجھ کر احتیاط کے ساتھ ہو گا۔
مقامی نیوز ایجنسیوں کے مطابق عزیزی نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران اس جوابی کارروائی کے نتائج سے خوف زدہ نہیں۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ تہران جنگ کو وسیع کرنے کا خواہش مند نہیں ہے۔
ادھر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے باور کرایا ہے کہ "مزاحمتی محور" اسرائیل سے انتقام کے لیے انفرادی اور خود مختار طریقے سے حرکت میں آئے گا۔
واضح رہے کہ ایران 'مزاحمتی محور' کی اصطلاح خطے میں تہران نواز ملیشیاؤں کے لیے استعمال کرتا ہے۔
باقری نے زور دے کر کہا کہ "اسماعیل ہنیہ کے خون کا انتقام لینا ایک قطعی امر ہے"۔
اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ ایران آئندہ عرصے کے دوران میں وسیع جنگ اور علاقائی لڑائی بھڑکانے سے گریز کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرے گا۔ اسی طرح جیسے حزب اللہ نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔
اسی طرح امریکا بھی ایران کی جانب سے نرم رد عمل کی امید کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر سے بین الاقوامی سطح پر یہ اندیشے پھیل گئے کہ خطے میں لڑائی کا دائرہ وسیع نہ ہو جائے۔ اس میں ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف ایران اور اس کے دھڑے ہیں۔ بالخصوص 31 جولائی کو تہران میں اسماعیل ہنیہ اور اس سے قبل بیروت کے جنوب میں فؤاد شکر کی ہلاکتوں کے بعد ایرانی ذمے داران اور حزب اللہ اسرائیل کو شدید جوابی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔
-
ایران برسوں سے امریکی حکام کی جاسوسی کی بڑی کارروائیاں کر رہا ہے:رپورٹ
اس موسم گرما میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایرانی ہیکرز کے دراندازی سے دو سال ...
بين الاقوامى -
ایران کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ نہ کرے : وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ "ایرانی حملے کی ...
بين الاقوامى -
ایرانی جوہری پروگرام : سپریم لیڈر نے امریکہ سے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا
ایران کے سپریم لیڈر نے منگل کے روز ایک غیرمعمولی عندیہ دیا ہے۔ جس سے یہ ایک مثبت ...
بين الاقوامى