خطے میں جنگ وسیع کرنے کی کوشش نہیں کر رہے: ایرانی پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پارلیمنٹ میں امن و خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر ان کے ملک کا رد عمل ناگزیر اور اٹل ہے۔

چند روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی بھی یہ باور کرا چکے ہیں کہ ان کا ملک لا محالہ اسرائیل کو جواب دے گا تاہم یہ اقدام سوچ سمجھ کر احتیاط کے ساتھ ہو گا۔

مقامی نیوز ایجنسیوں کے مطابق عزیزی نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران اس جوابی کارروائی کے نتائج سے خوف زدہ نہیں۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ تہران جنگ کو وسیع کرنے کا خواہش مند نہیں ہے۔

ادھر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے باور کرایا ہے کہ "مزاحمتی محور" اسرائیل سے انتقام کے لیے انفرادی اور خود مختار طریقے سے حرکت میں آئے گا۔

واضح رہے کہ ایران 'مزاحمتی محور' کی اصطلاح خطے میں تہران نواز ملیشیاؤں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

باقری نے زور دے کر کہا کہ "اسماعیل ہنیہ کے خون کا انتقام لینا ایک قطعی امر ہے"۔

حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کی تصاویر۔ [اے ایف پی]
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کی تصاویر۔ [اے ایف پی]

اسرائیل یہ توقع کر رہا ہے کہ ایران آئندہ عرصے کے دوران میں وسیع جنگ اور علاقائی لڑائی بھڑکانے سے گریز کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرے گا۔ اسی طرح جیسے حزب اللہ نے گذشتہ ہفتے کیا تھا۔

اسی طرح امریکا بھی ایران کی جانب سے نرم رد عمل کی امید کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر سے بین الاقوامی سطح پر یہ اندیشے پھیل گئے کہ خطے میں لڑائی کا دائرہ وسیع نہ ہو جائے۔ اس میں ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف ایران اور اس کے دھڑے ہیں۔ بالخصوص 31 جولائی کو تہران میں اسماعیل ہنیہ اور اس سے قبل بیروت کے جنوب میں فؤاد شکر کی ہلاکتوں کے بعد ایرانی ذمے داران اور حزب اللہ اسرائیل کو شدید جوابی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں