31 جولائی کو جب ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے دن یہ اعلان کیا کہ ان کا ملک اسرائیل سے اپنے مہمان کے قتل کا سختی سے بدلہ لے گا تو دنیا میں ایک بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ شروع ہونے کے بارے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ خاص طور پر جب سے ایرانی فوجی اور سیاسی حکام نے بارہا ’’ زمین کو تباہ کرنے والا انتقام‘‘ اور ’’کچلنے ڈالنے والا ردعمل’’ جیسے جملے بارہا استعمال کیے تو ایک بھرپور جواب کا ناگزیرمعلوم ہونے لگا۔
لیکن ان دھمکیوں کے تقریباً ایک ماہ بعد تہران کی پوزیشن "بھرپور جوابی کارروائی" سے بدل کر "نپے تلے ردعمل" کی طرف منتقلل ہوگئی ہے۔ موقف کی اس تبدیلی کا مقصد غیر متوازن جنگ کا باعث بننے والی کشیدگی سے بچنا ہے۔ حال ہی میں ایرانی حکام نے امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ "جرائم میں شراکت دار" قرار دینا شروع کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جوابی کارروائی "مزاحمت کے محور" کے ذریعے کی جائے گی۔
طاقت کا توازن
ایران کے لہجے میں تبدیلی کی وجوہات متعدد ہیں جن میں ایران کا یہ خیال بھی شامل ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگ میں طاقت کا توازن بدل جائے گا اور ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
مسعود پزشکیان، جنہوں نے حال ہی میں اصلاحی تحریک کی حمایت سے صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے، نے بہت سے وعدے کیے جن میں سے سب سے اہم آئین میں درج آزادیوں کو برقرار رکھنا، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے لڑنا ہے۔ حالیہ انتخابات میں بڑی تعداد میں لوگوں کے حصہ نہ لینے سے پہلے ہی حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کی نشاندہی ہو رہی ہے۔
پزشکیان کو ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے جنگ سے گریز کرنا اور جوہری فائل کے بارے میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کی ضرورت ہے۔ اس بات چیت کے ذریعے ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو سخت اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا باعث بن جائے۔ اس صورت حال میں ایران کے آپشن واضح ہو چکے ہیں۔
دشمن سے مذاکرات
اس تناظر میں ایرانی سپریم لیڈر، جن کے پاس اقتدار میں حتمی رائے ہے، نے عملی انداز اپناتے ہوئے ایک طرف اصلاح پسند تحریک کے قریب صدر کی حمایت کا اعلان کیا اور دوسری طرف دوسری طرف دشمن کے ساتھ مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔ علی خامنہ ای نے کہا کہ ہم دشمن سے اپنی امیدیں نہیں لگاتے لیکن یہ بعض مخصوص حالات میں اس کے ساتھ نمٹنے سے متصادم نہیں ہے۔
سپریم لیڈر کے بیانات پر ایک مختصر ردعمل میں معروف اصلاح پسند صحافی احمد زید آبادی نے لکھا ہے کہ اب جب کہ سپریم لیڈر نے دشمن سے نمٹنے کا اختیار دیا ہے اس لیے پیزیشکی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت ضائع کیے بغیر مذاکرات کا آغاز کرے۔ مغربی ممالک پابندیاں اٹھائیں۔ شاید طریقے سے ایرانیوں کی زندگیاں جلد از جلد بلند معیارتک پہنچائی جا سکیں۔
ریڈ لائنز
لیکن مذاکرات کے اس گرین سگنل کے باوجود علی خامنہ ای نے کسی بھی مذاکرات کے لیے ریڈ لائنز طے کی ہیں جو پزشکیان حکومت کو دھیان میں رکھنا ہوں گی۔ علی خامنہ ای نے اپنے انتباہات کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن قابل اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے سلطنت عمان میں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی اجازت دینے سے پہلے دیے گئے بیانات کو یاد کیا جس کی وجہ سے ’’ پی 5 پلس 1 ‘‘ ممالک کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ انہوں نے اسے ’’ عظیم شیطان‘‘ کے ساتھ مذاکرات کے طور پر بیان کیا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018 میں جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کے بعد اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد تہران نے عمان اور قطر کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی۔
ڈیموکریٹس کو ترجیح
مزید برآں علی خامنہ ای نے منگل کو یہ بھی کہا کہ سب کچھ کرنے کے بعد ہمارے لیے بعض اوقات حکمت عملی سے پیچھے ہٹنا ضروری ہو سکتا ہے لیکن ہمیں اپنے مقاصد یا رائے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔ واضح رہے امریکا میں 5 نومبر کو صدارتی انتخابات کا دن قریب آرہا ہے ۔ ڈیموکریٹک نائب صدر کملا ہیرس اور جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے والے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مقابلہ شدید ہے۔
اس لیے تہران ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بارے میں فکر مند ہے۔ اس لیے وہ جیتنے کے لیے ایک ڈیموکریٹک صدر کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ ترجیح ایران کی پوزیشن کے "شدید انتقام" سے "نپے تلے جواب" کی طرف منتقل ہونے کا ایک اضافی عنصر بتائی جا رہی ہے۔
خاص طور پر چونکہ کچھ مبصرین کملا ہیرس کو ایرانی جوہری مسئلے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کے حوالے سے زیادہ لچکدار سمجھتے ہیں۔ ایک انٹیلی جنس فرم RANE نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ اگر کملا جیت جاتی ہیں تو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہونے کے ساتھ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔