اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ ملاقات میں لبنانی حزب اللہ کے ساتھ تناؤ کم کرنے پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کی آخری تقریر کے بعد گذشتہ ماہ لبنان اسرائیل سرحد پر جھڑپوں کی شدت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

لیکن حالیہ دنوں میں، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان روزانہ کی جھڑپوں میں ایک بار پھر شدت آئی ہے، جس سے علاقائی کشیدگی کے بارے میں نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ایسے میں امریکی نیوز ویب گاہ ایکسیوس نے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک خفیہ ملاقات کی خبر دی ہے۔ جس میں امریکہ اور اسرائیل نے لبنان کے ساتھ تناؤ کم کرنے پر بات کی۔

ایکسیوس کے مطابق، چار اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے سینئر عہدیداروں نے منگل کے روز لبنان کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک ورچوئل میٹنگ کی۔ اور اس میں لبنان کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور ایک جامع حملے کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ورچوئل میٹنگ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ امریکی ٹیم کی قیادت وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کر رہے تھے۔ صدر بائیڈن کے مشیر اموس ہوچسٹین اور بریٹ میک گرک نے بھی شرکت کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹیم کی قیادت وزیر برائے اسٹریٹجک امور اور نیتن یاہو کے معتمد رون ڈرمر کر رہے تھے۔

ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق فریقین نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو ختم کرنے کے لیے ایک طویل المدتی سفارتی حل تک کیسے پہنچنا ہے ایک ایسے منظر نامے میں جہاں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور لاکھوں بے گھر اسرائیلیوں اور لبنانیوں کو واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

لیکن عہدیدار نے کہا کہ فریقین نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ حالات میں لڑائی کو کیسے کم کیا جائے۔

ڈرمر نے اس ملاقات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ذرا‏ئع کے مطابق، اسرائیل کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ لبنان کے ساتھ کسی بھی سفارتی معاہدے میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کو سرحد سے کم از کم 10 کلومیٹر دور انخلا شامل کیا جائے گا۔

اسرائیلی فریق نے میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے معاہدے کی کلید یہ ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ حزب اللہ کے ارکان واقعی سرحد کے قریب کا علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور حکام کے مطابق واپس نہیں جائیں گے۔

اسرائیلی حکام نے امریکہ سے اس عہد کا مطالبہ بھی کیا کہ وہ حزب اللہ کی افواج کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت کرے گا اگر وہ واپس آئے۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ہاکسٹین نے ملاقات میں کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کا باعث بنے گا، اس طرح اسرائیل کو دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔

قابل ذکر ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں گذشتہ اکتوبر میں محصور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے نہیں رکی ہیں۔

اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیےاور رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جن میں سب سے اہم فوجی کمانڈر فواد شکر تھا، جس کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

گذشتہ اگست کے آخر میں، حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے ساتھ ساتھ تل ابیب کے قریب ایک علاقے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا حملہ کیا، جس میں اس نے تقریباً 340 راکٹ داغے اور شمالی اسرائیل میں اس نے گیلوٹ فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔

اسرائیل میں ملٹری انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق، حزب اللہ نے تل ابیب کے گلیلوٹ کے علاقے میں انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، جس میں موساد ہیڈ کوارٹر اور بیس شامل ہیں، مگر دونوں مقامات کو پہلے جزوی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں