ہم نے مصر کی ریڈ لائن عبور کرلی: ایک اجلاس میں نیتن یاہو کی گفتگو
قاہرہ نے صدی کی ڈیل کو ناکام بنایا تو نیتن یاہو نے مصر کو جنگ میں گھسیٹنے کے لیے فلاڈیلفی محور میں رہنے کا اعلان کیا: سابق مصری سکیورٹی عہدیدار
اپنی آخری پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایسے بیانات دیے جن میں انہوں نے مصر کو مشتعل کیا ہے۔ انہوں نے فلاڈیلفی محور میں رہنے کی خواہش کا اعلان کیا جو مصر کی سرخ لکیر ہے۔ انہوں نے غزہ میں ہتھیاروں کی سمگلنگ کے بار بار الزامات لگائے جس سے اسرائیلی کابینہ میں ان کے ساتھی وزرا کو ہی شدید غصہ آیا۔ ان وزرا میں سر فہرست وزیر دفاع گیلنٹ تھے۔
ایک مصری سیکورٹی ماہر نے نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع کے درمیان فلاڈیلفیی کوریڈور (فلاڈیلفی محور) کے حوالے سے گرما گرم بحث اور اختلاف کے مناظر اور ان کے منصوبوں اور ارادوں کا انکشاف کیا۔
طوفانی ملاقات
العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے عرب وزرائے داخلہ کی کونسل میں عرب دفتر برائے سکیورٹی میڈیا کے سابق ڈائریکٹر میجر جنرل مروان مصطفیٰ نے کہا کہ منٹس کے لیک ہونے سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے وزراء کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات میں بحث ہوئی۔
یہ ملاقات طوفانی تھی۔ اس کے آغاز میں نیتن یاہو نے فلاڈیلفی محور میں فوجی موجودگی کو کم کرنے کے لیے فوج کی طرف سے تیار کردہ نقشوں کا ایک سیٹ پیش کیا۔ اس کی منظوری کے لیے اس پر ووٹ کا مطالبہ کیا۔ یہ ایک ایسا آئٹم تھا جس کے بارے میں وزرا کو میٹنگ سے پہلے علم نہیں تھا۔
مصری سکیورٹی ماہر نے بتایا کہ لیکس کے انکشاف کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اس پر اعتراض کیا اور ووٹ کی وجوہات اور ضرورت جاننے کے لیے کہا۔ انہوں نے کہا کہ منظوری کا ووٹ لامحالہ مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنے گا کیونکہ حماس اور مصر اس پر متفق نہیں ہوں گے۔ جس کی وجہ سے لازمی طور پر یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔
سکیورٹی سروسز پر رائے مسلط
لیکس کے مطابق نیتن یاہو نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ طے تھا اور سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے تیزی سے ووٹنگ کا طریقہ کار شروع کردیا پھر گیلنٹ کی جانب سے ایک تبصرہ جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے سکیورٹی کے حوالے سے اپنی رائے کو فوج پر مسلط کیا ہے۔ یہ نقشے ان کے حقیقی وژن کا اظہار نہیں کرتے جس کا انہوں نے پہلے اعلان کیا تھا۔ فلاڈیلفیا محور پر قبضہ کرنا فضول تھا۔
اس پر نیتن یاہو نے گھبرا کر جواب دیا کہ میں نے اسے مسلط نہیں کیا ہے ۔ گیلنٹ نے جواب دیا کہ یقیناً میں نے ایسا کیا ہے اور آپ خود ہی مذاکرات کا انتظام کر رہے ہیں۔ ہمیں ان فیصلوں کے بارے میں اس وقت تک علم نہیں ہو جب تک کہ وہ جاری نہ ہو جائیں۔ فوج اور سیکورٹی سروسز کی رائے اس سے مختلف ہے۔
چیف آف سٹاف اور موساد
لیکس سے پتہ چلتا ہے کہ نیتن یاہو نے گیلنٹ کی تقریر پر توجہ نہیں دی اور ووٹنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو چیف آف سٹاف نے مداخلت کی اور کہا کہ فوج کو معلوم ہوگا کہ اگر حالات کی ضرورت ہوئی تو وہ دوبارہ محور میں کیسے داخل ہوں گے۔ محور پر کافی پابندیاں ہیں اور دیگر پابندیوں کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ موساد نے کہا کہ موجودہ وقت میں ووٹنگ پر اصرار کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔
مصری سکیورٹی ماہر نے کہا کہ نیتن یاہو جو کچھ کر رہے ہیں وہ نہ تو بے ساختہ ہے اور نہ ہی خود ساختہ ہے بلکہ اس کے پاس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ ایک منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگ کو طول دینا اور اس جنگ کو امریکی صدارتی انتخابات کے اختتام تک جاری رکھنا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور صدر جیت پر شرط لگانا شامل ہے۔
بائیڈن کی کوششوں کی ناکامی
مصری سکیورٹی ماہر نے اس کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی ہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ نقشے پر اسرائیل کا رقبہ چھوٹا ہے اور اسے بڑھانا ضروری ہے۔ اسی لیے نیتن یاہو صدر بائیڈن کی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر طرح سے کوشش کر رہے ہیں۔ بائیڈن جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کے ناکام ہونے سے ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں۔
مصری سیکورٹی ماہر نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ صدی کی ڈیل پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مصر تھا۔ اسرائیل کے لیے تعطل سے نکلنے کے لیے مثالی اور موزوں ترین حل یہ ہے کہ مصر کی ریڈ لائن کو عبور کیا جائے اور اسے جنگ میں گھسیٹ لیا جائے۔