فلم ’’دا بی بی فائلز‘‘ میں نیتن یاہو سےمتعلق ایسا سکینڈل جواسرائیل کو ہلا کر رکھ سکتا

آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی ایلکس گبنی کی دو گھنٹے کی اس فلم میں نیتن یاہو کے خلاف پولیس کی تفتیش کی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی فوٹیج سامنے لائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز عدالت میں ایک فوری درخواست جمع کرائی ہے کہ ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں "دی بی بی فائلز" کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم میں بدعنوانی کے الزامات پر اپنے ٹرائل سیشن سے متعلق دستاویزات کی اشاعت کو روکا جائے۔

ویب سائٹ ’’ وائے نیٹ‘‘ نے بتایا کہ نیتن یاہو نے فلم کے پریمیئر سے قبل ایک فوری سماعت کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں 2016 اور 2018 کے درمیان ان سے اور ان کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کے دوران کی ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگ دکھائی گئی ہیں۔

ویب سائٹ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو فلم کو ٹورنٹو میں دکھانے سے روکنے میں ناکام رہے لیکن وہ اپنی درخواست میں کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل میں اس کی اشاعت کو روکا جائے۔

فوٹیج پہلے کبھی نہیں دکھائی گئی

آسکر ایوارڈ یافتہ ایلکس گبنی کی لکھی ہوئی دو گھنٹے کی اس فلم میں نیتن یاہو کے خلاف پولیس کی تحقیقات کے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے فوٹیج کو سامنے لایا گیا ہے۔ نیتن یا ہو کے خلاف رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت تحقیقات کی گئی تھیں۔

ٹورنٹو میں فلم دیکھنے والے ایک کارکن نے کہا کہ یہ فلم کوئی رومانوی کامیڈی نہیں ہے لیکن یہ فلم دیکھنا کسی بھی یہودی کے لیے ضروری ہے جو انسانیت اور اسرائیل کا خیال رکھتا ہو۔ ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں دستاویزی فلم کی ابتدائی سکریننگ کے موقع پر اسرائیلیوں کی ایک محدود تعداد نے تھیٹر کے سامنے مظاہرہ کیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ نیتن یاہو کی بدعنوانی نے یرغمالیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مظاہرین نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ابھی سے اقدامات کرے اور یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنائے۔

سیاسی بم جو اسرائیل کو ہلا سکتا

میڈیا نے اس دستاویزی فلم کو ایک سیاسی بم قرار دیا جو اسرائیل کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ ایلکس گبنی نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا فلم نہ دکھانے پر اصرار ان کے کرپٹ کردار کا پختہ ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلم اسرائیل میں نہیں دکھائی جائے گی اور نہ ہی ویڈیو ٹیپ شدہ تفتیشی مواد پر قانونی پابندیوں کی وجہ سے ملک میں تقسیم کیا جاسکے گا۔ تاہم گبنی نے اپنی امید کا اظہار کیا کہ فلم کسی بھی وقت دوسرے طریقوں سے اسرائیلی ناظرین تک پہنچ جائے گی۔

غزہ میں جنگ کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد دو ماہ کے وقفے کے بعد بدعنوانی کے الزامات پر نیتن یاہو کے مقدمے کی سماعت گزشتہ دسمبر میں دوبارہ شروع ہوئی۔ کیس 1000 جسے "گفٹ" کیس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی اور رشوت لینے کے الزامات میں سب سے نمایاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں