پالتو کتے کی موت پر عالم دین کی طرف سے مالک کو تعزیتی پیغام پر احتجاج
سوشل میڈیا پر حرام وحلال کی نئی بحث
گذشتہ دو دنوں کے دوران مصر میں سوشل میڈیا سائٹس پر فنکار خالد الصاوی کی کتیا کے مرنے پرایک مذہبی رہ نما کی طرف سے تعزیتی پیغام سوشل میڈیا پرنئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واقعہ کیا ہے؟
تنازعہ کا آغاز الصاوی کی جانب سے گذشتہ منگل کو ان کے آفیشل ’فیس بک‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ سے ہوا، جس میں انہوں نےاپنی کتیا‘ کیم ‘کی موت کا اعلان کرنے کے ساتھ اس کی موت پر گہرے دکھ اور رنجم وغم کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’کیم‘ ان کے لیے ان کی بیٹی کی طرح تھی۔ اس کی موت نے انہیں اور ان کی اہلیہ کو رنجیدہ کردیا ہے۔
انہوں نے کتیا کے ساتھ تصویر پوسٹ کی اور تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: "الوداع، میری پیاری ’کیم‘ الوداع‘‘۔
سوشل میڈیا صارفین نے الصاوی کی پوسٹ اور اس کے دل کو چھو لینے والے الفاظ پر ہمدردی کا اظہار کیا۔
تاہم ایک معروف عالم دین کی مداخلت سے معاملہ الٹا ہوگیا
مصری عالم دین کی کتیا کی موت پرفن کار سے تعزیت
عام صارفین کی طرف سے فن کار کے ساتھ ہمدردی کا اظہار معمول کی بات تھی مگرمصر کی بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھر کے ایک عالم الشیخ مظہر شاہین کے الصاوی کے ساتھ تعزیتی بیانات نے سب کو حیران کردیا۔
انہوں ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’فنکاربھائی خالد الصاوی کے لیے ان کی کتیا کی موت پر میری طرف سے دلی تعزیت۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کے دل کو تسلی دے اور ان کے نقصان پر صبرجمیل عطا فرمائے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "موت پر غم لوگوں کے دلوں میں رحمت ہے۔ اسلام ہر پالتو جانداروں کے لیے رحمت کا دین ہے"۔
الصاوی نے عالم دین کی تعزیت کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ "تمام محبت اور احترام کے ساتھ، مجھے اپنی بیٹی کی طرح عزیز کتیا (کیم) کے بارے میں تعزیت کا پیغام ملا۔ خدا گواہ ہے کہ وہ میرے اور میری بیوی کے لیے ایک بیٹی کی طرح تھی۔اس نے اور اس کی بہنوں نے بے اولادی کے خلا کو پُر کیا۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "آپ کی بزرگی نے ہمیں حقیقی اسلام کی ایک خالص مثال دی ہے جو ہر ذی روح پر مہربان ہے۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں علمائے دین کی ایک ایسی نسل عطا کی ہے جو حقائق کے مطابق بات کرنے میں ماہر ہیں"۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان
لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ معاملہ پسند نہیں آیا، جنہوں نے "کتیا" کی موت پر مولانا کے تعزیتی پیغام کو مسترد کرتے ہوئے صدمے کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر تنقید کا ایک طوفان پھیل گیا، بہت سے لوگ حیران ہیں کہ جانور کی موت پر تعزیت کیسے کی جا سکتی ہے۔
کچھ صارفین کتے کو ایک "ناپاک جانور" قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کتے تو گھروں میں رکھنا بھی جائز نہیں۔ کتے کی موت پر تعزیتی کیسے ہوسکتی ہے۔ صارفین نے لکھا کہ الشیخ علامہ مظہر شاہین نے کتیاموت پر تعزیتی پیغام دے کرایک غلط مثال قائم کی ہے۔
دوسری جانب بہت سے لوگوں نے شاہین کے نرم ردعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مہذب رویہ قرار دیا جو انسانی جذبات کے مطابق ہے۔
بعض مذہبی شخصیات نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کتا ایک ناپاک جانور ہے اور اس کے مرنے پر مالک سے تعزیت درست نہیں۔