ہم بھی بلیاں اور کتے نہیں کھاتے: ٹرمپ کو ایک طنزیہ جرمن جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدارتی انتخابات کے ریپبلکن امیدوار نے منگل کو اپنی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس کے ساتھ اپنے پہلے اور آخری مباحثے کے دوران کہا تھا کہ تارکین وطن کے ہاتھوں کتوں، بلیوں اور پالتو جانوروں کے کھانے کا طوفان ابھی تھم نہیں سکا ہے۔ مباحثہ کے دوران ٹرمپ نے جو کچھ کہا اس کی مذمت اور تردید کرنے والوں میں جرمنی بھی شامل ہوگیا۔

وزارت خارجہ کی ٹویٹ

جرمن وزارت خارجہ نے سابق امریکی صدر پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے جواب دیا ہے۔ دو روز قبل پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ جرمنی میں توانائی کا شعبہ پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ چاہے ہمیں یہ پسند آئے یا نہ آئے۔ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ شعبہ اب 50 فیصد سے زیادہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار کر رہاہے۔ حکام کوئلے اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کو بند کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ بیان کہا گیا کہ کوئلے کے استعمال 2038 تک ختم ہوجائے گا۔

وزارت نے بلیوں اور کتوں کو کھانے کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اس معاملے نے پچھلے کچھ دنوں سے امریکہ میں تنازع کھڑا کر دیا تھا ۔ وزارت نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم بلیوں اور کتوں کو بھی نہیں کھاتے۔ یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے حوالے سے تھا کہ ہیٹی کے تارکین وطن سپرنگ فیلڈ اوہائیو میں پالتو جانور کھاتے تھے۔

ٹرمپ کی جانب سے اپنے Truth سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر
ٹرمپ کی جانب سے اپنے Truth سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک تصویر

گزشتہ منگل کی رات اپنی بحث کے دوران ٹرمپ نے فوسل فیوسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی نے ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر فوسل فیولز کو ترک کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ باقاعدہ پاور پلانٹس کی تعمیر پر واپس آ گیا تھا۔ اس نے تارکین وطن پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بلیاں اور کتے کھانے ہیں اور امریکہ کو غرق کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں