امریکی صدارتی انتخابات کے ریپبلکن امیدوار نے منگل کو اپنی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس کے ساتھ اپنے پہلے اور آخری مباحثے کے دوران کہا تھا کہ تارکین وطن کے ہاتھوں کتوں، بلیوں اور پالتو جانوروں کے کھانے کا طوفان ابھی تھم نہیں سکا ہے۔ مباحثہ کے دوران ٹرمپ نے جو کچھ کہا اس کی مذمت اور تردید کرنے والوں میں جرمنی بھی شامل ہوگیا۔
وزارت خارجہ کی ٹویٹ
جرمن وزارت خارجہ نے سابق امریکی صدر پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے جواب دیا ہے۔ دو روز قبل پلیٹ فارم ایکس پر کہا تھا کہ جرمنی میں توانائی کا شعبہ پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے ۔ چاہے ہمیں یہ پسند آئے یا نہ آئے۔ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ شعبہ اب 50 فیصد سے زیادہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار کر رہاہے۔ حکام کوئلے اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کو بند کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ بیان کہا گیا کہ کوئلے کے استعمال 2038 تک ختم ہوجائے گا۔
Like it or not: Germany’s energy system is fully operational, with more than 50% renewables. And we are shutting down – not building – coal & nuclear plants. Coal will be off the grid by 2038 at the latest. PS: We also don’t eat cats and dogs. #Debate2024 pic.twitter.com/PiDO98Vxfo
— GermanForeignOffice (@GermanyDiplo) September 11, 2024
وزارت نے بلیوں اور کتوں کو کھانے کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اس معاملے نے پچھلے کچھ دنوں سے امریکہ میں تنازع کھڑا کر دیا تھا ۔ وزارت نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم بلیوں اور کتوں کو بھی نہیں کھاتے۔ یہ بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے حوالے سے تھا کہ ہیٹی کے تارکین وطن سپرنگ فیلڈ اوہائیو میں پالتو جانور کھاتے تھے۔
گزشتہ منگل کی رات اپنی بحث کے دوران ٹرمپ نے فوسل فیوسز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی نے ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر فوسل فیولز کو ترک کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ باقاعدہ پاور پلانٹس کی تعمیر پر واپس آ گیا تھا۔ اس نے تارکین وطن پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ بلیاں اور کتے کھانے ہیں اور امریکہ کو غرق کر رہے تھے۔