غزہ سے السنوار کو نکالنے اور جنگ بندی کے لیے ڈیل کی مزید تفصیل آگئی
اسرائیل نے واشنگٹن کو ایک نئی پیشکش کی ہے جس میں تمام مغوی افراد کو ایک ساتھ رہا کرنے کا کہا گیا ہے
اسرائیل نے امریکہ کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی اور حماس کے رہنما یحییٰ السنوار اور ہر وہ شخص کو نکلنا چاہے کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس تجویز میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا، غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنا، غزہ کی پٹی کے لیے انتظامی طریقہ کار کو نافذ کرنا اور جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔
قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کے اسرائیلی رابطہ کار گال ہرش نے مغوی خاندانوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں نئی تجویز سے آگاہ کیا۔ گال ہرش نے کہا کہ وسیع خاکہ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں امریکی حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے دوران پیش کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ہرش سے ملاقات کرنے والوں نے اس تجویز کو "محفوظ اخراج ڈیل" کا نام دیا ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں درپیش مشکلات اور یرغمالیوں کی زندگیوں کے لیے اہم وقت ہونے کی کی روشنی میں ہم ایک "ثانوی منصوبہ" (پلان بی) تجویز کرنا چاہیں گے جس کے مراحل مختصر ہوں گے۔ یہ ایک ایسی ڈیل ہوگی جو السنوار کے چلے جانے کی صورت میں ہوگی اور جنگ ختم ہو جائے گی۔ اس سے ہم جنگ کے اہداف حاصل کر سکیں گے اور غزہ میں حماس کو بحفاظت محفوظ جگہ کی طرف روانہ کر سکیں گے۔
یاد رہے اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں یرغمالیوں کے لواحقین کے ساتھ 30 سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ مغوی کے معاملے کو بین الاقوامی منظر نامے پر آگے بڑھانے کے لیے اہل خانہ بین الاقوامی اداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔