پیجربم دھماکوں کے بعد الیکٹرک کاریں ٹائم بم میں تبدیل ہو سکتی ہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان میں حالیہ ہفتے کے دوران الیکٹرانک مواصلاتی آلات میں دھماکوں ، پیجر ڈیوائسز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد اسمارٹ ڈیوائسز کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین نے الیکٹرک کاروں کے صارفین کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

چھ سو گنا مہلک

مصر کے ایک تزویراتی ماہر نے مہلک قسم کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تنازعات اور سیاسی قتل و غارت گری کے میدان میں "سمارٹ الیکٹرک کاریں" بڑ تباہی کا باعث بن سکتی ہیں اور یہ چلتا پھرتا ٹائم بم ہیں۔

اس سلسلے میں اسٹریٹجک ماہر بریگیڈیئر جنرل سمیر راغب نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات میں خبردار کیا کہ لبنان میں ہزاروں پیجر ڈیوائسز کو ریموٹ ٹارگٹ کرنے کے معاملے میں جو کچھ ہوا وہ ان سمارٹ الیکٹرک کاروں کے ساتھ دہرایا جا سکتا ہے جو مختلف ممالک کے پاس ہیں۔ حالیہ برسوں میں لوگوں کو انہیں استعمال کرنے کی ترغیب دینے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، لیکن اگر انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ تباہ کن دھماکے ہوں گے۔ ان میں موجود بیٹریاں سائز کے اعتبار سے پیجر ڈیوائسز کی بیٹریوں سے چھ سوگنا بڑی ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ پیجر بیٹری 70 گرام تک ہے جب کہ الیکٹرک کاروں کی بیٹریاں کئی سو گنا ا سے بڑی ہیں۔

انٹرنیٹ یا سیٹلائٹ کی رسائی

اسٹریٹجک تجزیہ نگار نے تصدیق کی کہ "سمارٹ" الیکٹرک کاروں کو سیٹلائٹ یا انٹرنیٹ کے ذریعے ہیک کرنا آسان ہے۔ انہیں بیٹری پر لوڈ بڑھانے اور اس کے درجہ حرارت کو تیز کرنے کے احکامات دیے جا سکتے ہیں جس سے وہ فوری طور پر پھٹ سکتی ہیں۔ یہ اسرائیل یا کسی دوسرے ملک میں ایک بٹن کے کلک سے دوسرے ملک میں سیاسی یا حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل سمیر راغب نے مزید کہا کہ الیکٹرک کار کی بیٹریاں "لیتھیم" سے بنی ہوتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے دھماکہ خیز پیجرز کی بیٹریاں ہیں۔ کاروں کی بیٹریاں حجم میں بڑی اور زیادہ مہلک ہوتی ہیں اور انہیں دھماکہ کرنے کے لیے پہلے سے بوبی ٹریپ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف انہیں مختلف تکنیکی مواصلاتی آلات کے ذریعے دور سے کنٹرول کرنے سے ہی ان کی بیٹری پھٹ سکتی ہے۔ دھماکے کی شدت سے گاڑی کے اندر موجود ہر شخص، یا اس کے آس پاس موجود افراد بشمول راہگیروں اور کاروں، یا یہاں تک کہ ایک ملحقہ عمارت تباہ ہوسکتی ہے۔

فوائد مہلک نقصانات میں تبدیل ہو سکتے ہیں

مصری دانشور سمیر راغب نے خبردار کیا کہ الیکٹرک کاروں کے فوائد جن کے حصول کے لیے مختلف کمپنیوں میں مسابقت کی کیفیت ہے، انہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ ان کی تیار کردہ برقی گاڑیاں کتنی غیر محفوظ اور خطرناک ہوسکتی ہیں۔

دنیا بھر کی بڑی جدید الیکٹرک کار کمپنیاں اپنی بیٹری کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے دوڑ میں مصروف ہیں۔ چارجنگ کی ضرورت کے بغیر زیادہ فاصلے تک ڈرائیونگ کی حد میں بھی مقابلہ ہے۔ یہ کار کو انٹرنیٹ یا سیٹلائٹ سے منسلک کرکےانہیں چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ دونوں سروسز کار کو ہیک کرنے اور ریمورٹ کنٹرول سے اسے دھماکہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں