حزب اللہ کے خلاف استعمال ہونے والا ’ہتھوڑا‘ بم جس سے زمین بھی کانپ جاتی ہے کیا ہے؟

ہتھوڑا بم ہدف پر پھٹنے کے بعد زمین میں تین اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے کے برابر ارتعاشل پیدا کرتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف شروع کی گئی کارروائی میں مقامی آبادی نے زمین کے اندر زلزلے جیسے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔ یہ غیرمعمولی جھٹکے دراصل اسرائیلی فوج کی طرف سے استعمال کئے جانے والے طاقت ور بم ’ہتھوڑا‘ کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

یہ اتنے سخت اور زور دار بم ہیں کہ ان کے پھٹنے سے دھرتی کانپنے لگتی ہے۔ اسرائیل نے ان بموں کا ماضی میں بھی حزب اللہ اور حماس کے خلاف ان کی سرنگوں کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

لبنانی میڈیا میں ان بموں کو ’شیرون زلزلہ بم‘ کا نام دیا ہے۔

یہ بم کیا ہیں؟

پھٹنے کے بعد زمین میں ارتعاش پیدا کرنے والےبم دراصل انتہائی طاقت ور بم ہوتے ہیں جو دسیوں میٹر زیر زمین بنکروں میں گھس جاتے ہیں۔ پھر اندر ہی اندر پھٹ جاتے ہیں۔ اس دھماکے کے نتیجے میں سیکڑوں میٹردور جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اس بار بھی لبنان میں شہریوں نے ایسےہی جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

بین الاقوامی فوجی حوالوں اور مطالعات کے مطابق یہ بم زیرزمین مضبوط پناہ گاہوں اور بنکروں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ میزائل نما اس بم لمبائی 7.5 میٹر تک ہوتی ہے۔ان کا وز ایک ٹن سے شروع ہوتا ہے اور بعض کا وزن ایک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان پر لیزر کنٹرول کا استعمال کرتے ہوئے بمباری کی جاتی ہے۔ ان بموں کی تیاری کا آغاز 1990 کی دہائی سے ہوا تھا۔

یہ میزائل زلزلے کے ساتھ ایک بہت ہی زور دار دھماکہ پیدا کرتے ہیں جو پورے ہدف والے علاقے اور اس کے ارد گرد دور دراز علاقوں میں بھی محسوس کر سکتے ہیں۔

3.6 شدت کے زلزلے

یہ بم اونچائی سے زمین کی طرف آواز کی رفتار سے گرایا جاتا ہے تاکہ سطح میں 30 میٹر کی گہرائی تک جا سکے اور پھر پھٹ جائے۔اس کی وجہ سے تیز لہریں اور شدید ارتعاش کے جھٹکے پیدا ہوتے ہیں جو عمارتوں، سرنگوں اور اونچی موٹائی کے پلوں کو منہدم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بم پھٹتے ہی ایک تباہ کن قوت پیدا کرنا جو کہ 3.6 شدت کے زلزلے کے برابر ہوتی ہے۔ بم کے سائز اور اس کے اندر موجود دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے اس کے اثرات میں فرق ہوسکتا ہے۔ پے لوڈ سمیت اس کا وزن عام طور پر 10 ٹن ہوتا ہے اور اسے لے جانے کے لیے مخصوص طیارے کی ضرورت ہوتی ہے۔

گذشتہ اگست میں حزب اللہ کی جانب سے "عماد 4" کے نام سے کفر کلا کے مقام پر سرنگوں کے نیٹ ورک سے منسلک ایک بہت بڑے فوجی اڈے کا انکشاف کیا۔ اسرائیلی فوج نے آٹھ اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار Mk84 بنکر بسٹر بموں کا استعمال کرتے ہوئے جواب دیا۔ یہ ایک گائیڈنس پیکج سے لیس بم ہے جس سے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بھاری استعمال کیا گیا۔

متعدد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے بموں کا وزن تقریباً 900 کلو گرام تھا۔ یہ ایک بہت بڑے وار ہیڈ سے لیس تھے جو گہرے قلعوں میں گھسنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

"ہتھوڑا" نام کی وجہ تسمیہ

اس قسم کے بم کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی اعلیٰ صلاحیت کی وجہ سے "ہتھوڑا" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ 15 میٹر چوڑا اور 10 میٹر سے زیادہ گہرا گڑھا بنا سکتا ہے، جس کے مہلک اثرات ہوتے ہیں۔

یہ بم ایک J-DAM پیکیج سے لیس ہیں اور انہیں گائیڈڈ آلات کے ایک سیٹ سے جو نان گائیڈڈ بموں کو GPS کے زیر کنٹرول "سمارٹ" بموں میں تبدیل کرتا ہےکا استعمال کرکے اہداف کودرست انداز میں نشانہ بنانے میں مدد کرتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ریباؤنڈ یا سیسمک بموں پر انحصار کرتا ہے جو زمین کی بیرونی پرت کو پھاڑتے ہوئے زلزلے جیسی بڑی لہریں خارج کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نشانہ بنی عمارت یا سرنگ زور سے لرز جاتی ہے۔

یہ بم جنگی طیاروں سے لانچ کیا جاتا ہے اور اسے ٹینکوں اور توپ خانے سے بھی داغا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں